"پیرا اہلکار ہونا قانون سے بالاتر ہونے کی سند نہیں”،لاہور ہائیکورٹ نے شہری پر تشدد کیس میں اہلکار کی درخواست مسترد کر دی

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے شہری پر تشدد اور نقدی چھیننے کے الزام میں پیرا فورس کے اہلکار کے خلاف مقدمے کے اندراج کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جسٹس محمد اجمل زاہد نے پیرا فورس کے اہلکار توقیر آصف کی درخواست خارج کر دی۔ درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج کے اس حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

سماعت کے بعد جسٹس اجمل زاہد نے ایک اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیرا اہلکار ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو عام فوجداری قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق کسی بھی سرکاری اہلکار پر اگر فوجداری نوعیت کے الزامات عائد ہوں تو اس کے خلاف عام قانون کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس میں الزامات کی سچائی یا درخواست گزار کے قصوروار ہونے کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی۔ فیصلے کا مقصد صرف یہ ہے کہ قانونی عمل رکنے نہ پائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ الزامات، دستیاب شواہد اور قابل اطلاق قوانین کا آزادانہ جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے