لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کے ایک مقدمے میں چھ سال گزرنے کے باوجود گواہان پیش نہ کیے جانے اور تفتیش مکمل نہ ہونے کے خلاف دائر درخواستِ ضمانت کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب سے زیر التوا چالانوں اور زیر تفتیش مقدمات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے پنجاب پولیس سے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا میکانزم بھی 19 اکتوبر تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے محمد صائم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ رائیونڈ سٹی تھانہ میں دوہرے قتل کا مقدمہ 2020 سے درج ہے اور درخواست گزار گزشتہ چھ سال سے جیل میں قید ہے۔ وکیل کے مطابق پولیس کی جانب سے تفتیش ہی مکمل نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ٹرائل کا آغاز ہو سکا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی غفلت کے باعث عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے یہ کیس دیکھا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملزمان کب گرفتار ہوئے اور پولیس نے انہیں پہلے کیوں نہیں پکڑا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے عدالتی نظام خراب ہوا ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ "کیا میری عدالت سست ہے؟ تمام ججز کام کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ملزمان کو تحفظ دیتی ہے اور وہ اس طرزِ عمل کی پذیرائی نہیں کریں گے۔عدالت نے آئی جی پنجاب سے پوچھا کہ ان خرابیوں کو ختم کرنے کے لیے پولیس نے کیا میکانزم بنایا ہے۔
عدالتی احکامات
عدالت نے زیر نظر کیس میں تفتیش مکمل کرنے اور گواہان کو پیش کرنے کے لیے پولیس کو مہلت دے دی۔ ساتھ ہی آئی جی پنجاب کو زیر التوا چالانوں اور زیر تفتیش مقدمات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے اور 19 اکتوبر کو پنجاب پولیس کا اس حوالے سے میکانزم عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔










