بہاولپور (پنجاب پوسٹ) تاریخی حیثیت اور انتظامی شناخت کی بحالی کے مطالبے کے لیے متحدہ علماء کونسل پاکستان اور انجمن تاجران فقیروالی کے مشترکہ پلیٹ فارم سے ایک اہم پریس کانفرنس ,جس میں علماء کرام، تاجران، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور سماجی زعماء نے شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا پیر حافظ مسعود قاسم قاسمی، چیئرمین متحدہ علماء کونسل پاکستان و مہتمم جامعہ قاسم العلوم فقیروالی نے کہا کہ بہاولپور کی اپنی ایک تاریخی حیثیت رہی ہے اور خطے کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور صوبے کی بحالی سے اس خطے میں ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں اور عوام کے متعدد انتظامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مولانا پیر حافظ مسعود قاسم قاسمی نے کہا کہ ریاست بہاولپور نے 7 اکتوبر 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں بہاولپور کو صوبائی حیثیت حاصل رہی، تاہم 1955ء میں ون یونٹ کے قیام کے موقع پر اسے مغربی پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔ 1970ء میں ملک میں صوبائی نظام کی بحالی کے باوجود بہاولپور کی سابقہ صوبائی حیثیت بحال نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ خطے کے عوام کی ایک دیرینہ خواہش ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرید گیٹ اور بکنیری گیٹ ماضی میں بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک کے احتجاجی مراکز رہے، جبکہ اس تحریک کے دوران حافظ محمد شفیق اور عظیم داؤدپوترا کے جاں بحق ہونے کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور کے عوام اپنے تاریخی تشخص اور انتظامی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔











