شیخو پورہ (پنجاب پوسٹ) پنجاب یونیورسٹی کی ایک شٹل بس، جس میں تقریباً 50 طالبات سوار تھیں، لاہور سے شیخوپورہ آ رہی تھی۔ جوئیاں والہ موڑ کے قریب ایک ڈمپر نے غلط انداز میں بس سے آگے نکلنے (اوور ٹیک کرنے) کی کوشش کی، جس پر دونوں ڈرائیوروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
بعد ازاں، سائم نالہ، پنجاب سپر اسٹور، شیخوپورہ شہر کے قریب ڈمپر ڈرائیور داؤد خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بس کو زبردستی روکا، بس ڈرائیور محمد اختر کو باہر گھسیٹ کر نکالا اور لوہے کی راڈ سے حملہ کر کے ان کے سر پر شدید چوٹ پہنچائی۔طالبات اور بس کنڈیکٹر کے شور مچانے اور ڈمپر کو گھیرنے کی وجہ سے موقع پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور سڑک عارضی طور پر بند ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی صحت کا علاج ضروری، مریض کو کن علامات کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے؟
اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن فوری طور پر موقع پر پہنچے، صورتحال کو قابو میں لایا، ڈمپر ڈرائیور اور اس کے ہیلپر کو ہجوم سے بچا کر حراست میں لیا اور ٹریفک بحال کروائی۔ دونوں افراد کو پولیس تحویل میں لے کر ڈمپر کو بند کر دیا گیا ہے۔
زخمی ڈرائیور کو ریسکیو 1122 کے ذریعے طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ تمام طالبات کو باحفاظت ان کے والدین/سرپرستوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے۔
ایس ایچ او A ڈویژن شیخوپورہ انسپکٹر سید قمر عباس کی دبنگ کاروائی پنجاب یونیورسٹی طالبات کے بس ڈرائیور پر تشدد کرنے والے دو مرکزی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے۔











