ستھرا پنجاب کی 150 ڈمپنگ سائٹس، روزانہ جمع شدہ 50 ہزار ٹن کچرا قیمتی سرمایہ کیسے بنایا جا رہا ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق سے چینی صنعتی گروپ گرینڈ ٹاپ کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے گرین پراجیکٹس اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے نظام کو جدید بنانے سمیت ویسٹ ٹو انرجی اور لینڈ فل سائٹس کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی کمپنی نے جدید سینی ٹیشن مشینری اور سافٹ ویئر کے شعبے میں اپنی مہارت شیئر کرنے کی پیشکش کی۔

چینی وفد میں کمپنی کی سی ای او مس یانگ چن جن، پریذیڈنٹ وانگ جیان اور دیگر عہدیدار شامل تھے، جبکہ سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود اور ڈی جی ستھرا پنجاب عمر جاوید بھی ملاقات میں موجود تھے۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے بتایا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبے میں 150 ڈمپنگ سائٹس قائم کی گئی ہیں، جبکہ روزانہ جمع ہونے والے 50 ہزار ٹن کچرے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی کی سینی ٹیشن مشینری تیار کرنے کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور ستھرا پنجاب کے لیے چھوٹی ڈی سلٹنگ یونٹس کی تیاری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ذیشان رفیق کا کہنا تھا کہ تنگ گلیوں میں صفائی کے لیے چھوٹے مکینیکل سویپرز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چینی وفد کو لکھوڈیر سائٹ اور اندرون لاہور کا دورہ کرانے کی ہدایت بھی کی تاکہ پنجاب میں صفائی کے نظام اور کچرے کو قابل استعمال بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ پاکستان کو بجلی کے مقابلے میں گھریلو استعمال کے لیے گیس کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے کچرے سے بائیوگیس تیار کرنے کے منصوبوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے گرینڈ ٹاپ کے ساتھ ماحول دوست منصوبوں کے آغاز کا خیرمقدم بھی کیا۔

چینی صنعتی گروپ گرینڈ ٹاپ کی سی ای او مس یانگ چن جن نے کہا کہ ان کی کمپنی پنجاب کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت مشینری کی تیاری اور توانائی کے منصوبوں میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔

مس یانگ چن جن کے مطابق چین میں دنیا کا سب سے بڑا زیرو ویسٹ انڈسٹریل پارک روزانہ 9 ہزار 300 ٹن کچرا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے بائیوگیس اور واٹر ٹریٹمنٹ کے شعبوں میں چینی کمپنی کا تجربہ پنجاب کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش بھی کی۔

ملاقات میں اس امر پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ جدید مشینری، کچرے سے توانائی کی پیداوار اور بائیوگیس منصوبوں کے ذریعے ستھرا پنجاب پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے، جبکہ روزانہ جمع ہونے والے کچرے کو ماحول دوست طریقوں سے قابل استعمال بنانے کے لیے سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے