ڈیرہ غازی خان ، ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے سول جج کی موت ، معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا

ڈیرہ غازی خان( نمائندہ پنجاب پوسٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے وفات پا جانے والی سول جج ساجدہ محبوب کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا ۔

لاہور ہائیکورٹ میں لاہور ہائیکورٹ میں فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ نے چیف سیکرٹری، سیکرٹری صحت کے کارروائی نہ کرنے پر درخواست دائر کی ہے ۔ درخواست میں حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مئوقف اختیار کیا گیا گیا ہے کہ سول جج ساجدہ محبوب ڈی جی خان میں تعینات اور گردوں کی بیماری کا شکار تھیں،سرکاری ہسپتال انتظامیہ کی لاپرواہی نے جج کی جان لے لی۔ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال میں سول جج ساجدہ محبوب رات بھر تڑپتی رہی۔ایم ایس اور سی ای او ہیلتھ عدالتی عملے کا فون سننا گوارہ نہ کیا 26 اپریل کو سول جج ساجدہ محبوب کا اسلام آباد میں گردہ ٹرانسپلانٹ ہونا تھا، 24 اپریل کو طبیعت خراب ہونے پر سول جج ساجدہ محبوب کو ہسپتال لایا گیا،

خاتون سول جج رات ساڑھے دس بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک ہسپتال میں تڑپتی رہی ۔ مریضہ کے نہ ڈائیلاسز کئے اور نہ ہی آکسیجن لگائی گئی، اطلاع کے باوجود ایم ایس اور سی ای او ہیلتھ نے کوئی ایکشن نہ لیا،

سرکاری ہسپتال میں اگر سول جج بےیارو مددگار فوت ہوگئی ہے تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت ذمہ داروں کیخلاف کمیشن بنا کر کارروائی کا حکم دے اور عدالت چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے

دوسری جانب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ غازی خان میں مبینہ طبی غفلت کے باعث سول جج مس ساجدہ محبوب کی وفات کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے،

سپیشل سیکرٹری (آپریشنز)سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن جنوبی پنجاب کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ پرنسپل ڈی جی خان میڈیکل کالج، نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے شعبہ نیفرولوجی کے سربراہ اور ایڈیشنل کمشنر (کوآرڈینیشن) ڈی جی خان بطور ممبران شامل ہیں،

کمیٹی علاج کے تمام مراحل، ممکنہ غفلت اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی، کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات 24 گھنٹوں کے اندر سیکرٹری ہیلتھ کو پیش کرے گی

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے