لاہور(پنجاب پوسٹ)محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں عوامی امن و امان کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 کے فوری نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ پابندی 6 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گی۔
سیکرٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر مکمل پابندی ہوگی۔
اس کے علاوہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کیلئے لوگوں کو اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
استثنیٰ
پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اسی طرح ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر بھی اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
نفاذ کی وجہ
نوٹیفکیشن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انٹیلیجنس رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اجتماعات، ریلیاں، جلسے، دھرنے، جلوس اور مظاہرے دہشت گرد حملوں کیلئے ممکنہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ اسی بنا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی تھی۔حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد، وجہ کیا بنی ؟











