لاہور (پنجاب پوسٹ) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچز اور ماضی میں ہونے والے سیاسی واقعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 سے اب تک بارہ سال کے دوران پانچ مواقع پر جتھہ بندی ہوئی، جس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا نام دینے والوں نے وزیراعظم ہاؤس، پی ٹی وی اور سپریم کورٹ کے ساتھ جو کچھ کیا، اس دوران لوگوں کو گولیاں بھی ماری گئیں۔ بقول ان کے، اسلام آباد میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ انارکی پھیل گئی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور نواز شریف ان کے گھر بھی گئے تھے۔
ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پشاور سے ایسا جتھہ بھی آیا جو سپریم کورٹ کو محصور کرنے کی بات کرتا تھا اور اسلام آباد میں سٹریٹ پاور دکھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
انہوں نے پانامہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح وزیراعظم کو اقتدار سے نکالا گیا، وہ بھی ایک اہم سیاسی واقعہ تھا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ پشاور سے مسلح افراد اور تربیت یافتہ غنڈوں کو اسلام آباد لایا گیا، دارالحکومت کا محاصرہ کیا گیا اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہر چار سال بعد پشاور سے ایک سیاسی جماعت لوگوں کو مسلح کرکے وفاق پر حملہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق 9 مئی کے واقعات میں 29 چھاؤنیوں کو آگ لگائی گئی، جسے سیاسی حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ بار بار خیبرپختونخوا سے آنے والے جتھوں کے اثرات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی طرح کا مائنڈ سیٹ نظر آتا ہے اور ایسے لوگ وہاں سے آتے ہیں جہاں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے۔










