اسلام آباد ( پنجاب پوسٹ ) عدالت نے کرپٹو کرنسی فراڈ کیس میں فورٹ عباس کے رہائشی بھائیوں نواز شریف اور شہباز شریف کی 5 مئی تک ضمانت منظور کر لی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد محمد افضل مجوکہ نے فورٹ عباس کے رہائشی بھائیوں کی فراڈ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔
وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلان پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، واٹس ایپ نمبر سے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

وکیل صفائی نے عدالت سے دونوں بھائیوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں انویسٹی گیشن میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں۔
عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سننے کے بعد دونوں بھائیوں کی 5 مئی تک عبوری ضمانت 20، 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی اور فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ فورٹ عباس ضلع بہاولنگر کے رہائشی بھائیوں نواز شریف اور شہباز شریف جن کے خلاف کرپٹو کرنسی فراڈ پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے، اور انہوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر کرپٹو کرنسی کی آڑ میں اسلام آباد کے رہائشی حسن محسن کے ساتھ فراڈ کا الزام ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے شکایت کنندہ کے ساتھ سرمایہ کاری کے بدلے بھاری منافع کا وعدہ کیا، لیکن معاہدے کے مطابق شکایت کنندہ کو نہ ہی منافع دیا گیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی گئی۔ آن لائن فراڈ پیکا ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم ہے۔









