لاہور (پنجاب پوسٹ) نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تاخیری حربے استعمال کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات یا مشاورت کے بعد پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا اعلان کیا جائے، وگرنہ جماعت اسلامی اپنے لانگ مارچ کے لیے مکمل تیار ہے۔
منصورہ لاہور میں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے روایتی ٹال مٹول سے کام لیا تو جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ملتان سے روانہ ہوگا۔ عوام حکمرانوں کے رویوں کی وجہ سے پہلے ہی احتجاج اور بغاوت کے راستے پر ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں گڈ گورننس اور اچھی حکمرانی کا فقدان ہے، جب ایسا ہو تو سیاست، معیشت اور قومی سلامتی کے لیے بڑے خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے پارلیمان اور جمہوریت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کی چوری حقیقت میں اسمبلیوں کو بے وقعت بنا چکی ہے، جبکہ بیوروکریسی اور سرکاری محکموں نے عوام کو لوٹنے کی طرف گامزن کر لیا ہے اور ہر ادارہ لوٹ مار میں مصروف ہے۔ وفاق اپنے دائروں میں جبکہ صوبائی حکومت اٹھارویں ترمیم پر عمل کرنے میں ناکام ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی ملکی مسائل کے حل کے لیے قومی ایجنڈا رکھتی ہے۔ تمام قومی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے قومی ڈائیلاگ اور اتفاق رائے سے قومی ایجنڈے کی تشکیل ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کسی بھی معاشرے اور سماج کا حق ہے، کرپشن سے نجات اور حکمرانوں کی سطح پر عیاشیاں ختم ہونی چاہئیں۔ تاحال نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری نہیں ہو سکی اور عوام و اداروں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے، ملک میں ہائبرڈ نظام ناکام ہو چکا ہے جبکہ ملک اور صوبوں میں بااختیار بلدیاتی نظام انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ملک گیر لانگ مارچ پیٹرولیم لیوی کے خلاف تیار ہے، لامحدود وقت کے لیے نہ کسی کمیٹی اور نہ مذاکرات کا انتظار ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم جلد عوام کو ریلیف دیں، وگرنہ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ملتان سے روانہ ہوگا۔











