لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور میں محکمہ داخلہ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ شہر کو بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اور جلد اسے خطے کا پہلا “چائلڈ فرینڈلی سٹی” قرار دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یونیسیف لاہور کے لیے باقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جبکہ اس حوالے سے مئی کے پہلے ہفتے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔
یہ پیش رفت سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور یونیسیف کے چیف فیلڈ آفیسر رمیز بہبودوف کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی، جس میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
سیکرٹری داخلہ کے مطابق پنجاب بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع چائلڈ پروٹیکشن پالیسی منظور کرنے والا پہلا صوبہ ہے، اور حکومت بچوں پر تشدد، زیادتی اور استحصال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “گڈ ٹچ بیڈ ٹچ” کے حوالے سے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق صوبے میں بچوں کو محفوظ شیلٹر، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے ساتھ نفسیاتی اور قانونی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مزید 19 چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام پر کام جاری ہے۔
یونیسیف کے نمائندے رمیز بہبودوف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ “زیور تعلیم” جیسے منصوبوں سے بچیوں کے سکول داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق حکومت پنجاب بچوں کے لیے محفوظ اور باوقار معاشرے کے قیام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور لاہور کو چائلڈ فرینڈلی سٹی قرار دینا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔















