لاہور(پنجاب پوسٹ)ڈیفنس میں آذربائیجانی لڑکی سے مبینہ گینگ ریپ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انویسٹی گیشن پولیس نے دوسرے ملزم علی کو چشتیاں (بہاولپور) سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملزم محسن پہلے ہی گرفتار ہو چکا ہے اور دونوں کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تیسرے ملزم تنویر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ مبینہ سہولت کاری کے الزام میں ایک اور خاتون مسکان بھی پوش علاقے سے گرفتار ہو چکی ہے۔
تین روز قبل پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ نمبر 2446/26 تھانہ ڈیفنس سی میں آذربائیجان کی 20 سالہ شہری کی مدعیت میں دفعات 375A اور 337J کے تحت درج ہے، جسے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے "ہائی پروفائل” قرار دے دیا ہے اور تفتیشی افسر کو تمام اصل ریکارڈ سمیت 30 ستمبر 2026 کو طلب کر لیا ہے۔
ڈیفنس میں آذربائیجانی لڑکی سے مبینہ گینگ ریپ، مقدمہ درج
واقعہ تین روز قبل پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ نمبر 2446/26 تھانہ ڈیفنس سی میں آذربائیجان کی 20 سالہ شہری کی مدعیت میں دفعات 375A اور 337J کے تحت درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق نامعلوم ملزمان نے دھوکے سے لے جا کر انہیں نشہ آور مشروب پلایا، حبسِ بے جا میں رکھا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا سخت نوٹس، کیس "ہائی پروفائل” قرار
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کیس کو "ہائی پروفائل” قرار دے دیا ہے اور تفتیشی افسر (IO) کو تمام اصل ریکارڈ اور تفتیشی فائل سمیت 30 ستمبر 2026 کو اپنے دفتر میں طلب کر لیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ تفتیش بلا تاخیر، شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کی جائے گی تاکہ ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
دوسرا ملزم علی چشتیاں سے گرفتار، مسکان بھی پولیس کی حراست میں
انویسٹی گیشن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث دوسرے ملزم علی کو چشتیاں (بہاولپور) سے گرفتار کر لیا ہے۔ ڈیفنس انویسٹی گیشن پولیس ملزم کو لے کر لاہور پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے ملزم محسن گرفتار ہو چکا تھا، جبکہ دونوں ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تیسرے ملزم تنویر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اسی دوران مبینہ واقعے میں سہولت کاری کے الزام میں ایک اور خاتون مسکان کو پوش علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ملزمان بے نقاب
فارما کمپنی کے مالک کا بیٹا اور سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی شامل نکلے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم احمد تنویر ایک نجی فارماسوٹیکل کمپنی کے مالک کا بیٹا ہے، جس کے والد کا کاروبار "نجی فارما لمیٹڈ” اور "نجی فارمیسی” کے نام سے ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والی سوناٹا گاڑی اور فلیٹ بھی احمد تنویر کی ملکیت ہیں۔ دوسرا ملزم محسن سوشل میڈیا انفلوئنسر ہے، جبکہ تیسرا ملزم اوزیر عمر پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی دوست مسکان اور عینی، احمد تنویر کی بھی دوست ہیں اور دونوں پارٹی گرلز ہیں۔ مسکان اور عینی لڑکی سے ڈیل کر کے اسے اپنے دوست احمد تنویر کے فلیٹ پر لے گئی تھیں، جہاں 6 لوگ 27 ستمبر کی رات بحریہ ٹاؤن میں واقع ملزم کے فلیٹ پر رکے۔
کیفے کی تصاویر سامنے آ گئیں، موبائل فون تاحال برآمد نہیں
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کی جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے میں بیٹھنے کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں، جن میں وہ مسکان کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔ لڑکی جوہر ٹاؤن سے سندر کے علاقے میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی گئی تھی، جبکہ اس کے دونوں موبائل فون تاحال برآمد نہیں ہو سکے۔
تفتیش میں نیا رخ: رضامندی اور رقم کے لین دین کا دعویٰ
کیس میں ایک نیا رخ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس تفتیش میں گینگ ریپ کے بجائے رضامندی کا پہلو سامنے آیا ہے اور رقم کے مبینہ لین دین کا معاملہ بھی تفتیش کا حصہ بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم طے ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، مبینہ طور پر 60 ہزار روپے کی ادائیگی بھی کی گئی، اور رقم کی ادائیگی کے بعد مقدمے کے مؤقف میں تبدیلی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
تفتیش جاری، اصل حقیقت مزید تحقیقات کے بعد واضح ہوگی
پولیس نے گرفتار ملزم سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ دیگر ممکنہ ملزمان اور شواہد کی چھان بین جاری ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اصل حقیقت مزید تفتیش کے بعد واضح ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر 13 سالہ نوجوان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا












