کوٹلی ستیاں( نمائندہ پنجاب پوسٹ) کوٹلی ستیاں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے 6.11 ملین روپے کی خطیر لاگت سے بنایا گیا سہولت بازار اب خود سرکاری اداروں کی باہمی چپقلش کی نذر ہونے لگا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات نے سہولت بازار کے تمام اسٹالز کو غیر قانونی قرار دے کر دکانداروں کو فوری طور پر دکانیں خالی کرنے کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ نوٹس میں واضح تنبیہ کی گئی ہے کہ جگہ خالی نہ کرنے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام نے دو سرکاری اداروں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور درجنوں غریب دکانداروں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔
متاثرہ دکانداروں نے پنجاب پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ محکمہ جنگلات کا دفتر یہاں سے چند فرلانگ دور ہے۔”جب یہ بازار تعمیر ہو رہا تھا، تب کسی نے کام کیوں نہیں رکوایا؟ مہینوں تک تعمیر ہوتی رہی، سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب جب ہم نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا، گاہک بنائے، تو ہمیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ یہ کھلی ناانصافی ہے۔
دوسری جانب تحصیل انتظامیہ نے محکمہ جنگلات کے نوٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ سہولت بازار ڈپٹی کمشنر کے احکامات اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف پیکج کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

ہم نے سیکرٹری فاریسٹ کو بھی تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ ایک سرکاری ادارے کا دوسرے کے منصوبے کو غیر قانونی قرار دینا اداروں کے ٹکراؤ کے مترادف ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی اٹھ رہا ہے۔”افسر نے مؤقف اپنایا۔
شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر زمین متنازعہ تھی تو 6.11 ملین روپے کا عوامی پیسہ کیوں لگایا گیا؟ منصوبہ بندی کے وقت NOC کیوں نہیں لیا گیا؟ اب اس رسہ کشی میں نقصان صرف غریب دکاندار کا ہو رہا ہے۔

دکانداروں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور کمشنر راولپنڈی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اداروں کی لڑائی میں لاکھوں کے سرکاری فنڈز اور درجنوں خاندانوں کا چولہا نہ بجھنے دیا جائے۔
سہولت بازار اب "مشکل بازار” بن چکا ہے اور اس کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ہے۔















