پنجاب میں ایک ہفتے کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی 4 لاکھ 27 ہزار 587 انسپیکشنز، 19 ہزار 711 کارروائیاں، ایک کروڑ 14 لاکھ 95 ہزار روپے جرمانہ عائد

لاہور (پنجاب پوسٹ) محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب کے مطابق 14 سے 20 ستمبر 2026 کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے صوبے بھر میں مختلف اشیائے ضروریہ کی 4 لاکھ 27 ہزار 587 انسپیکشنز کیں۔ اوور چارجنگ پر 19 ہزار 711 کارروائیاں کرتے ہوئے ایک کروڑ 14 لاکھ 95 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید کے مطابق گراں فروشی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 75 مقدمات درج اور 334 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ روٹی کی قیمتوں کی چیکنگ کے دوران 71 ہزار 200 انسپیکشنز کی گئیں، جن میں ناجائز منافع خوری کے 5 ہزار 67 کیسز رپورٹ ہوئے۔ روٹی کی اوور چارجنگ پر 6 لاکھ 40 ہزار روپے جرمانے، 26 ایف آئی آرز درج اور 70 افراد گرفتار کیے گئے۔

مرغی کے گوشت کی اوور چارجنگ پر 2 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانے، 3 مقدمات درج اور 24 افراد گرفتار ہوئے۔ باسمتی چاول کی چیکنگ کے دوران 15 ہزار 388 انسپیکشنز میں گراں فروشی کے 775 کیسز سامنے آئے۔

دالوں کی قیمتوں کی چیکنگ کے لیے 28 ہزار 180 انسپیکشنز کی گئیں اور گراں فروشی کے 1 ہزار 403 کیسز سامنے آئے، جن پر 3 لاکھ 27 ہزار سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔ چینی کی قیمتوں کی چیکنگ کے دوران 13 ہزار 581 چھاپے مارے گئے اور ناجائز منافع خوری کے 764 کیسز رپورٹ ہوئے۔

آٹے کی چیکنگ کے دوران 13 ہزار 101 ریڈز میں گراں فروشی کے 556 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ٹماٹر کی چیکنگ کے لیے 8 ہزار 902 انسپیکشنز کی گئیں، ناجائز منافع خوری کے 797 کیسز سامنے آئے اور 1 لاکھ 29 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

پیاز کی چیکنگ کے دوران 7 ہزار 11 انسپیکشنز کی گئیں اور اوور چارجنگ کے 585 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے پنجاب کی مختلف مارکیٹوں میں کارروائی کرتے ہوئے 30 کاروباری مقامات کو سیل بھی کردیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے