لاہور(پنجاب پوسٹ)پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے میڈیا کے سامنے موقف پیش کرنے کی درخواست مسترد کر دی، ذرائع کے مطابق رضوان دو بار پی سی بی سے اجازت مانگ چکے ہیں مگر دونوں بار انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان لارڈز ٹیسٹ کے بعد ضبط کیے گئے اپنے موبائل فون سے متعلق تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے اوپر عائد کیے گئے الزامات کی وضاحت بھی عوام کے سامنے لانا چاہتے تھے تاکہ اپنا موقف واضح کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایشین گیمز کی تیاریاں: پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کا کیمپ کراچی میں شروع
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ رضوان آئی سی سی کو لکھے گئے خط کے حوالے سے بھی میڈیا سے بات کرنے کے خواہاں تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سینٹرل کنٹریکٹ کی شق 16 استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔واضح رہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کی شق 4.1 کے تحت کوئی بھی کھلاڑی بورڈ کی اجازت کے بغیر عوامی سطح پر بیان نہیں دے سکتا، جبکہ شق 16 کے تحت ایسے معاملات میں پی سی بی اور کھلاڑی کے درمیان باہمی تعاون ضروری قرار دیا گیا ہے،یعنی کھلاڑی کو میڈیا سے بات کرنے کے لیے بورڈ کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان انڈر 19 کے ہیڈ کوچ شاہد انور اور کھلاڑیوں کا چیئرمین پی سی بی سے اظہارِ تشکر
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رضوان پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحقیقات اور آن لائن بیٹنگ کے الزامات کے تنازع میں گھرے ہوئے ہیں، اور پی سی بی کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔












