اس وقت عالمی سطح پر جاری تنازعہ ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ وہ تنازعہ جو عالمی معیشت کا رخ متعین کرسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس میں لمحہ بھر کی خطا بھی تباہ کن نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔
اس وقت دو عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ جن کی درمیان بد اعتمادی، مطالبات، جوابی مطالبات، شکوے اور شکایات کا سلسلہ نصف دہائی پر محیط ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سفارتی عمل کو متاثر اور سبوتاژ کرنے کیلئے کئی شرپسند عناصر بھی متحرک ہیں ، جن میں نہ صرف اسرائیل بلکہ فریقین کے اندر موجود بعض حلقے بھی شامل ہیں۔
یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے جس میں انا، تاریخ اور سخت داخلی سیاست کا گہرا عمل دخل ہے۔
اگر اس تمام منظرنامے کو درست تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی جانب سے اس گتھی کو سلجھانے اور امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ایک غیر معمولی اقدام ہے، جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
یہ اعلانیہ اور پس پردہ سفارتی سرگرمیاں، مسلسل رابطے، بیانات اور جوابی بیانات، اچانک بدلتے ہوئے رویے اور مذاکرات کے اتار چڑھاؤ، ان سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ سطحی مایوسی کا شکار ہوکر شر پسند عناصر کے بیانیے کو تقویت پہنچا کر، عمل کو خطرے سے دوچار کیا جائے۔
ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جو اس عمل میں ثالثی اور مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ بہت کچھ ان چند لوگوں کی بصیرت اور استقامت پر منحصر ہے۔










