دریائے سندھ پر نہروں کی مخالفت بھاری پڑنے لگی ،دریائے چناب میں پانی کی قلت نے کسانوں کی مشکلات بڑھا دیں

لاہور(پنجاب پوسٹ)دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی نے پنجاب کے نہری نظام اور کسانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو 15 جون سے 15 اکتوبر تک دریائے چناب میں کم از کم 55 ہزار کیوسک پانی چھوڑنا ہے، لیکن اس وقت دریائے چناب میں صرف 19 ہزار 700 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے نہروں میں پانی کی صورتحال انتہائی متاثر ہو رہی ہے۔


بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا 33 ہزار کیوسک پانی روک لیے جانے کے باعث پنجاب میں نہری پانی کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔ نہر اپر چناب کو مقررہ 20 ہزار کیوسک کے بجائے صرف 12 ہزار 200 کیوسک پانی مل رہا ہے، جبکہ مرالہ راوی لنک کینال میں بھی پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہے اور مقررہ 20 ہزار کیوسک کے مقابلے میں صرف 5 ہزار 37 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

پانی کی اس کمی کے اثرات ہیڈ مرالہ، ہیڈ خانکی، ہیڈ قادرآباد اور ہیڈ تریموں سے نکلنے والی نہروں تک پہنچ چکے ہیں، جس سے وسیع رقبے پر آبپاشی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ نہری پانی کی قلت کے باعث کسان اپنی فصلوں کی آبپاشی کے لیے مہنگے ٹیوب ویل استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب مرالہ راوی لنک کینال میں پانی کی کمی کے باعث دریائے راوی میں بھی پانی کی مزید کمی واقع ہو گئی ہے، جبکہ راوی سے نکلنے والی نہروں کے اطراف کسان خشک سالی جیسی صورتحال سے شدید پریشان ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر کسان تنظیموں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے عالمی عدالتِ انصاف اور عالمی بینک سے فوری طور پر رابطہ کیا جائے تاکہ کسانوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے