پاکستان سے حاصل کردہ قدرتی حیاتیاتی کنٹرول ایجنٹ نے فلوریڈا اور کیلیفورنیا کی لیموں کی صنعت کو بچانے میں کیسے مدد دی؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)بیجنگ میں منعقدہ ورلڈ ایگری فوڈ انوویشن کانفرنس (WAFI) 2026 میں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ عالمی سطح کی اس کانفرنس میں زرعی خوراک کے شعبے میں سائنس، ٹیکنالوجی، پالیسی، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ سمیت اہم امور پر دنیا بھر سے پالیسی سازوں، سائنسدانوں، کاروباری رہنماؤں اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔

ڈاکٹر اقرار احمد خان نے "مقامی ایگری فوڈ حل کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانا” کے عنوان سے اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے میں مؤثر تبدیلی کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت اور ایسا اعلیٰ تعلیمی نظام ضروری ہے جو موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور غذائیت جیسے حقیقی چیلنجز کا مؤثر حل پیش کر سکے۔

انہوں نے عالمی زرعی تعاون کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سے حاصل کردہ ایک قدرتی حیاتیاتی کنٹرول ایجنٹ نے سٹرس گریننگ بیماری پھیلانے والے کیڑے کے خلاف استعمال میں مدد فراہم کی، جس سے فلوریڈا اور کیلیفورنیا کی سٹرس صنعت کو فائدہ پہنچا۔ ڈاکٹر اقرار نے اسے عالمی سطح پر زرعی سائنس اور تحقیق کے تبادلے کی ایک اہم مثال قرار دیا۔

چیئرمین پی ایچ ای سی نے بتایا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران تقریباً ایک ہزار نوجوان پاکستانی زرعی ماہرین کو چینی اداروں، جن میں چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز بھی شامل ہے، بھیجا جا چکا ہے جبکہ مزید ایک ہزار ماہرین بھی اس پروگرام کا حصہ بننے کے عمل میں ہیں۔ انہوں نے اسے پاکستان اور چین کے درمیان زرعی افرادی قوت کے تبادلے کی بڑی مثال قرار دیا۔

ڈاکٹر اقرار احمد خان نے پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تجارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی چاول، مکئی، تل کے بیج اور گدھے کا گوشت چین کو برآمد کر رہا ہے جبکہ زرعی سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے چینی جامعات کے اس طریقہ کار کو بھی سراہا جس کے تحت گریجویٹ طلبہ کو عملی تربیت کے لیے ایک سال تک دیہی علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اقرار کے مطابق اس طرح کے عملی تجربات نوجوانوں کو زمینی حقائق سے روشناس کرانے اور انہیں زیادہ قابل پیشہ ور بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

غذائی تحفظ کے حوالے سے ڈاکٹر اقرار نے غذائیت کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک میں غذائی کمی کے اعداد و شمار غربت کے اعداد و شمار سے زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجوہات میں صرف خوراک کی عدم دستیابی نہیں بلکہ خوراک کی استطاعت، غذائی تنوع کی کمی اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر اقرار احمد خان کے خطاب میں پاکستان کے زرعی تحقیق، اعلیٰ تعلیم، نوجوان ماہرین کی تربیت اور عالمی تعاون میں کردار کو اجاگر کیا گیا، جبکہ کانفرنس میں ان کی شرکت پنجاب کے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی اداروں کو زرعی شعبے میں عملی اور مارکیٹ کے لیے قابلِ استعمال حل تیار کرنے کی کوششوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے