سعودی سلامتی پر سمجھوتا ناممکن؛ پاکستان دفاع کیلیے ہرحد پار کرنے کو تیارہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام_آباد(پنجاب پوسٹ)پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ’سفارتی اور عملی طور پر‘ کھڑا ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان مملکت سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر مکمل طور پر کھڑا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان ’کسی بھی حد تک جانے‘ کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی طرف سے طلب اور ضرورت کے مطابق تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان کے عوام اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان مملکت کے دفاع کے لیے موجود ہے اور ’کسی بھی جارحیت کے خلاف مملکت سعودی عرب کا دفاع جاری رکھے گا۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ’ہم موجود ہیں‘ سے کیا مراد یہ ہے کہ پاکستانی فورسز اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میرے خیال میں جب ہم کہتے ہیں کہ ہم موجود ہیں تو یہ الفاظ خود اپنی مکمل وضاحت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے تاہم سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی تعداد، ان کی تعیناتی کی جگہ یا کسی مخصوص دفاعی آپریشن کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو تاریخی اور گہرے رشتے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلق ’جذباتی، گہری جڑوں والا، تاریخی اور ناقابلِ ٹوٹ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سعودی سلامتی کے لیے عزم ’غیر مشروط‘ ہے اور پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ موجودہ صورتحال سمیت تمام متعلقہ معاملات پر مسلسل رابطے میں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کی کوششیں صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی قیادت، وزارتِ خارجہ اور دیگر حکام خطے کے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ صورتحال کا ’مذاکرات اور امن کے ذریعے حل‘ نکالا جا سکے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’اتفاقِ رائے کی دستاویز‘ قرار دیا اور کہا کہ موجودہ پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کے لیے یہ ’آگے بڑھنے کا واحد حقیقی راستہ‘ فراہم کرتی ہے۔

مجموعی طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو میں تین باتیں نمایاں رہیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے غیر مشروط عزم کا اظہار کر رہا ہے، پاکستانی فورسز کی سعودی عرب میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم ان کی تعداد اور مخصوص ذمہ داریوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں؛ جبکہ پاکستان بیک وقت سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے