لاہور( پنجاب پوسٹ ) پنجاب میں سرکاری سکولوں کی نجکاری کے بعد سرکاری کامرس کالج کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ فیصلے کے تحت 76 کامرس کالجز کو بند کیا جائے گا، جس سے 19 ہزار طلبا کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل 92 نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے بعد صوبے بھر میں سرکاری کامرس کالجز کی نجکاری و بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں 76کامرس کالجز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ٹی وی چینل نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کالجز اپنی افادیت کھو بیٹھے ہیں، ان کا مزید سکوپ نہیں ۔ کالجز کے اخراجات ناقابل برداشت ہوچکے ہیں اور پڑھنے والے طلباءکو مارکیٹ میں ملازمت کے مواقع میسر نہیں
ابتدائی طور پر 27کالجز کو مختلف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کو کمپس کھلونے کے لئے دینے کا فیصلہ ہوا جبکہ 25کالجز کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جائے گا ۔ ان کالجز میں زیر تعلیم 19ہزار طلباءو طالبات کو دیگر جنرل کالجز میں شفٹ کیا جائے گا۔
نجکاری اور بندش کا سامنا کرنیوالے کامرس کالجز میں تعینات ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کو بھی دیگر کالجز میں اکاموڈیٹ کیا جائے گا۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے وزیر اعلی کی حتمی منظوری کے لئے سمری تیار کرلی ہے۔۔۔ان کالجز میں آئی کام، ڈی کام، بی کام اور دیگر شارٹ ڈپلومہ کروائے جاتے ہیں۔
پنجاب پوسٹ کو دستیاب معلومات کے مطابق ان کالجز کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کالجز میں تبدیل کردیا جائے گا۔ محکمہ ہائیرایجوکیشن پنجاب نے منصوبے پرکام شروع کردیا،صوبہ کے تمام 85 کامرس کالجزکو آئی ٹی کالجزکا درجہ دیا جائے گا۔ ذرائع محکمہ ہائیرایجوکیشن کا کہنا ہےکہ فیصلہ کامرس کے مضمون میں طلبا کا رجحان کم ہونے پر کیا گیا،ہر کامرس کالجزمیں طلبا کی تعداد سو سےکم ہے،کامرس کےایک طالبعلم پرحکومت کا3لاکھ تک خرچہ آرہا ہے، آئی ٹی کالجزمیں تبدیل کرکےایکسپرٹس کو بھرتی کیا جائے گا،کالجزمیں آئی ٹی کا کاروبارکرنیوالےنوجوانوں کیلئے“کو ورکنگ”دفاترقائم ہوں گے،آئی ٹی کالجزمیں ای لائبریریزکا قیام کیا جائے گا،محکمہ ہائیر ایجوکیشن کےمطابق آئندہ دس روزمیں منصوبے پرکام کا آغاز ہوجائے گا۔















