اچھرہ واقعہ: 3 بچوں کو قتل کرنے والی ماں کے جھنگ کے شہری سے تعلقات، نئے انکشافات سامنے آگئے

لاہور( پنجاب پوسٹ) لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کمسن بہن بھائیوں کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں گرفتار ملزمہ ردا فاطمہ کو ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ارشاد حسین سبزواری نے سماعت کے بعد ملزمہ کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ملزمہ کو پولیس کی تحویل میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے ابتدائی طور پر پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا۔

لاہور میں افسوسناک واقعہ ، اچھرہ میں تین معصوم بچوں کا گلہ کاٹ دیا گیا
: اچھرہ واقعہ: 3 بچوں کو قتل کرنے والی ماں کے جھنگ کے شہری سے تعلقات، نئے انکشافات سامنے آگئے

یہ مقدمہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق ہے جس میں تین کمسن بچوں کو ان کے گھر میں مردہ پایا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا کہ بچوں کی والدہ ہی اس واقعے میں ملوث ہے، جس کے بعد ملزمہ کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمہ کو مبینہ طور پر واردات کے بعد گھر سے باہر جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے نہ صرف جائے وقوعہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی بلکہ بعد ازاں واپس آ کر اہلِ محلہ کے ساتھ مل کر ریسکیو اور پولیس کو اطلاع بھی دی۔

اچھرہ میں تین بچوں کے قتل پر وزیر اعلیٰ کا نوٹس ، رپورٹ طلب ، ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم
: اچھرہ واقعہ: 3 بچوں کو قتل کرنے والی ماں کے جھنگ کے شہری سے تعلقات، نئے انکشافات سامنے آگئے

پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش میں کچھ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزمہ ایک شخص کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی جو جھنگ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں کے درمیان فون پر باقاعدہ رابطہ تھا اور مذکورہ شخص ملزمہ کو مالی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق ملزمہ اس شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی اور بچوں کو اس فیصلے میں رکاوٹ سمجھتی تھی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی مزید تصدیق تفتیش کے دوران کی جائے گی اور اس سلسلے میں ایک ٹیم جھنگ بھی روانہ کی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کے مطابق ملزمہ نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سسرال کے رویے سے تنگ تھی اور اس پر مبینہ طور پر دباؤ تھا۔ ان کے مطابق ملزمہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر کے دوسری شادی کرنا چاہتی تھی جبکہ بچے اس میں رکاوٹ تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں براہ راست ذمہ داری ملزمہ پر ہی عائد ہوتی ہے تاہم اگر مزید تحقیقات میں کسی اور کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے