لاہور (پنجاب پوسٹ) 184ویں آئی بی سی سی فورم میں ملک بھر کے امتحانی نظام کو رٹہ سسٹم سے فہم اور تصوراتی جانچ کی جانب منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، جبکہ امتحانی اور اسیسمنٹ نظام میں ملک بھر میں یکسانیت لانے کے اقدامات کی بھی منظوری دی گئی۔
نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس 40 فیصد مقرر کیے گئے ہیں، سندھ، وفاقی، میرپور آزاد کشمیر، قراقرم، آغا خان اور ضیاء الدین بورڈز میں نئی گریڈنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔
اجلاس میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹس پر ب فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جبکہ امتحانی نظام میں شفافیت کے لیے ای مارکنگ کے فروغ پر زور دیا گیا۔
آئی بی سی سی کی جانب سے بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کو اسکالرشپس اور بیرونِ ملک تعلیمی مواقع فراہم کرنے، جبکہ نمایاں طلبہ کے لیے ونٹر اور سمر کیمپس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دینے کی سفارش بھی کی گئی، جس کے بعد آئی بی سی سی فریم ورک کے تحت مساوی اسناد رکھنے والے دینی مدارس کی تعداد 26 ہوجائے گی۔
غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کے لیے سائنس گروپ کی مساوات کے قواعد میں بھی سہولت دی گئی ہے، دو سائنس مضامین پاس کرنے والے غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کو سائنس گروپ کی ایکوی ویلنس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے یکساں کیلنڈر تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ پریکٹیکل امتحانات کے لیے مشترکہ گائیڈ لائنز اور طریقۂ کار وضع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ پنجاب میں میرٹ پر بورڈ چیئرپرسنز کی تقرری قابلِ تحسین ہے، امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی نے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
آئی بی سی سی نے پاکستانی تعلیمی اسناد کی ساکھ اور بین الاقوامی شناخت مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک بھر میں شفاف، طلبہ دوست اور بین الاقوامی معیار کا امتحانی نظام قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔











