لاہور (پنجاب پوسٹ) سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں بادشاہتوں سے بھی بدتر انداز میں چل رہی ہیں، تاہم نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔
لاہور میں نئے صوبوں کی تشکیل پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا، جس میں شاہد خاقان عباسی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی نظام ہوتا تو ناکام ہوتا، نظام تھا ہی نہیں، جب تک آئین پر عمل نہیں ہوگا، قانون کی حکمرانی نہیں آئے گی۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ احتساب کا نعرہ صرف سیاستدانوں کو پکڑنے تک محدود ہوگیا ہے، ذمہ داری سب کی ہے لیکن ذمہ داری تلاش کرنے کی کسی کی ذمہ داری نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوٹھوہار، ہزارہ، کراچی، جنوبی پنجاب اور بہاولپور میں نئے صوبوں کے مطالبات موجود ہیں، تاہم صرف نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس کے لیے مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ بادشاہ بھی مشاورت کیا کرتے تھے، ہمارے صوبے ڈائریکٹو پر چلتے ہیں، وزیرِ اعلیٰ کی زبان سے نکلنے والا لفظ ڈائریکٹو بن جاتا ہے اور پوری بیوروکریسی اس پر عمل شروع کردیتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر نظام کے بغیر انتظامی مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔










