لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے مبینہ طور پر چارٹر طیارے کے استعمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس صوبے کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے اور گندم خریدنے کے لیے پیسے نہیں، اس صوبے کا وزیراعلیٰ چارٹر طیارے پر سفر کر رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ چارٹر طیارے کا خرچہ خیبر پختونخوا کے عوام کو کتنے میں پڑے گا اور کیا یہ اخراجات مڈل کلاس وزیراعلیٰ اپنی جیب سے برداشت کریں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ چارٹر طیارے میں وزیراعلیٰ کے ہمراہ یوٹیوبرز بھی موجود ہیں، جبکہ ماضی میں پنجاب کے سرکاری جہاز کے استعمال پر اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ جو لوگ دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں، وہ خود بھی وہی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’جہاز جہاز‘‘ کے بین ڈالنے والے یوٹیوبرز اب کہاں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اب چارٹر طیاروں پر سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو چارٹر طیارے کے مسافروں کی فہرست، طیارے کی ادائیگی کی رقم اور ٹریکنگ ڈیٹا عوام کے سامنے لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو فلائٹ نمبر اور بورڈنگ کارڈ دکھایا جا رہا ہے، وہ اسلام آباد سے بہاولپور جانے والی پرواز کا ہے، جبکہ جس پرواز میں وزیراعلیٰ نے سفر کیا وہ رحیم یار خان گئی، جس سے بظاہر یہ چارٹر فلائٹ معلوم ہوتی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اب صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا اور خیبر پختونخوا حکومت کو اس سفر کے اخراجات اور تفصیلات کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’’اب زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا، رسیداں کڈو، رسیداں۔‘‘











