نارووال(پنجاب پوسٹ)نارووال کے علاقے سراج گاؤں میں واقع تقریباً 100 سالہ قدیم تاریخی ہندو مندر کی بحالی اور تحفظ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اقلیتی امور و انسانی حقوق رمیش سنگھ اروڑہ کی زیرِ قیادت اعلیٰ حکام نے تاریخی مندر کا دورہ کیا اور اس کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر مندر کی مرمت، بحالی اور مناسب دیکھ بھال کے لیے متعلقہ حکام کو عملی اقدامات شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ کے دورے کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق، سیکریٹری ہیومن رائٹس ڈاکٹر عثمان علی خان اور ڈپٹی کمشنر نارووال بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل سیکریٹری شرائنز ناصر مشتاق نے تاریخی مندر کی موجودہ حالت، بحالی کے مجوزہ کام اور مرمت کے طریقہ کار سے متعلق صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ تاریخی مندر کی بحالی اور مرمت کا کام قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے انتظامیہ کو مندر کے تحفظ اور مناسب دیکھ بھال کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ڈی سی نارووال کو شہری حدود میں موجود ایک اور مندر کی بھی فوری بحالی کے اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں اور مذہبی مقامات کا تحفظ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی مذہبی مقامات پاکستان کی مشترکہ ثقافتی میراث ہیں، ان کے تحفظ اور بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:شیخوپورہ، مریم آباد میں مسیحی برادری کی مذہبی تقاریب، کیا انتظامات کئے گئے ہیں؟
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ تاریخی عبادت گاہوں کی بحالی نہ صرف مذہبی ورثے کے تحفظ بلکہ پنجاب کی صدیوں پر محیط مشترکہ ثقافت اور رواداری کی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔










