لاہور (پنجاب پوسٹ) انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2026 کو قانون بننے سے روکنے کے لیے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے گورنر پنجاب کو مراسلہ ارسال کردیا۔
مراسلے میں گورنر پنجاب سے درخواست کی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 116(2)(b) کے تحت انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کو ازسرنو غور کے لیے پنجاب اسمبلی کو واپس بھجوایا جائے۔
مراسلے کے مطابق یکم ستمبر کو بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا، جبکہ بل پر بامقصد بحث بھی نہ ہوسکی۔
مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپوزیشن نے بل سے متعلق اپنے آئینی تحفظات صوبائی حکام کے سامنے پہلے ہی رکھ دیے تھے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست میں قائد حزب اختلاف محمد معین الدین ریاض، ایم پی اے چوہدری اعجاز شفیع سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
مراسلے میں گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بل پر دستخط روک کر اسے اسمبلی کو واپس بھیجا جائے، اس کی قانونی اہلیت پر رائے لی جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرکے اس پر نظرثانی کرائی جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ آزادی، وقار اور منصفانہ ٹرائل جیسے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والے قانون پر شفاف اور بامقصد بحث ضروری ہے۔
مراسلے میں ججوں کی شناخت چھپانے کے انتظام کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 14 اور 25 سے متصادم قرار دیتے ہوئے قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولنگر، اوپن ڈور پالیسی، ساری ضلعی انتظامیہ کی کھلی کچہری، لوگوں کی شکایات کیا تھیں
درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ وفاقی قانون ہے تو پنجاب اسمبلی کو اس میں ترمیم کی قانون سازی کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
مراسلے میں آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت وفاقی اور صوبائی قانون میں ممکنہ تضاد پر قانونی رائے شائع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کی ضرورت اپنی جگہ، تاہم آئینی حقوق سے انحراف جائز نہیں، ٹرائل آزاد اور غیر جانبدار عدالتوں میں ہونا چاہیے۔ ججز اور گواہوں کے تحفظ کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات عدالت کی نگرانی میں محدود دائرے میں ہونے چاہییں۔
درخواست میں خفیہ ٹرائل اور گمنام فیصلوں کو آئین اور ICCPR کے آرٹیکل 14 سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔ مراسلے میں گمنام شہادتوں کی بنیاد پر سزا دینے پر پابندی اور ہائی کورٹ کے اختیار کو برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے خبردار کیا ہے کہ اگر بل موجودہ یا ملتی جلتی شکل میں منظور ہوا تو لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔












