لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کی جانب سے اپنی 11 سالہ بیٹی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار حفیظاں بی بی نے عدالت سے اپنی بیٹی مہوش کی بازیابی کے لیے فوری احکامات جاری کرنے کی استدعا کی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حفیظاں بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وہاڑی پولیس سے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی 11 سالہ بیٹی مہوش کو اس کے دادا مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر عائشہ جٹ کیس:رجب بٹ سمیت ملزمان پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکا
درخواست گزار کے مطابق اس کے شوہر عرفان سعودی حکومت کے ملازم تھے اور ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ خاتون کا مؤقف ہے کہ اس کے سسر مرحوم شوہر کی سعودی حکومت سے ملنے والی پنشن حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے اس کی بیٹی کو زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کی 11 سالہ بیٹی مہوش کو بازیاب کرا کر اس کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے معاملے پر وہاڑی پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ کارروائی تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران مستعفی، استعفیٰ کیوں دیا؟ اہم وجہ سامنے آگئی











