عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے کیس میں عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ، سماعت 12 ستمبر تک ملتوی

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور کی مقامی عدالت میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی مبینہ فیک ویڈیو وائرل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جہاں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی۔

عظمیٰ بخاری عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور بیان دیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتی تھیں، تاہم عدالت کے حکم پر پیش ہوئی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی ایک فیک ویڈیو وائرل کی گئی، جس کے باعث انہیں جس کرب اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اسے کوئی دوسرا محسوس نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو دیگر خواتین کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا۔

صوبائی وزیر نے بیان دیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف ایک پوسٹ دیکھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عظمیٰ بخاری کی ایک ویڈیو ریلیز ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ٹوئٹر کھولنے پر ملزمہ فلک جاوید کا ٹویٹ نظر آیا، جس میں مذکورہ پوسٹ شیئر کی گئی تھی، جس کے بعد یہ مواد وائرل ہوا۔

عظمیٰ بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے۔ دوسری جانب ملزمہ کے وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ انہیں جرح کے لیے کم از کم چار گھنٹے درکار ہوں گے۔

اس موقع پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کیس میں ایک سال سے تاخیر ہو رہی ہے۔ عظمیٰ بخاری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے آج تک کبھی کیس میں تاخیر نہیں کی، بلکہ ان کی خواہش تھی کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ ہو اور کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت پر ملزمہ کے وکیل عظمیٰ بخاری کے ریکارڈ کروائے گئے بیان پر جرح کریں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے