لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ ٹورازم کے کنٹرولر ٹورسٹ سروسز کی تعیناتی سے متعلق 2025 کے رولز کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو نئے، واضح اور میرٹ پر مبنی قواعد وضع کرنے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس راحیل کامران نے درخواست گزار حافظ غضنفر علی کی درخواست پر 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کنٹرولر ٹورسٹ سروسز کا عہدہ خصوصی نوعیت کا ہے، جس کے لیے متعلقہ تعلیمی قابلیت، تربیت اور عملی تجربہ ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ صرف پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) یا صوبائی مینجمنٹ سروس (PMS) سے وابستگی کی بنیاد پر کنٹرولر کی تعیناتی کا معیار غیرمنصفانہ ہے۔ متعلقہ شعبے میں تجربہ رکھنے والے افسران کو محض سروس وابستگی کی بنیاد پر نظرانداز کرنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاندلیانوالہ، دو کلو مرغی کا گوشت خریدتے وقت شہری 65 ہزار روپے سے کیسے محروم ہوگیا؟
فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کو سروس رولز میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہے، تاہم نئے قواعد بناتے وقت میرٹ اور تمام اہل امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ نئے رولز میں کنٹرولر کی تعیناتی کے لیے کوئی مخصوص متعلقہ تعلیمی قابلیت یا تجربہ مقرر نہیں کیا گیا، جو عدالت کے مطابق قابلِ جواز نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ جب ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے کے لیے پانچ سال کا متعلقہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے تو کنٹرولر کے عہدے کے لیے تجربے کی شرط ختم کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں۔
عدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ کنٹرولر ٹورسٹ سروسز کی تعیناتی کے لیے معقول، واضح اور متعلقہ تعلیمی قابلیت و تجربے پر مبنی نئے سروس رولز وضع کیے جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ نئے رولز کی تشکیل کے بعد کنٹرولر ٹورسٹ سروسز کی تعیناتی کا عمل ازسرنو کیا جائے اور حکومت یہ عمل تین ماہ کے اندر مکمل کرے۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ کنٹرولر کی تعیناتی میں متعلقہ شعبے کے تجربے کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور میرٹ پر مبنی شفاف معیار ہی تمام اہل امیدواروں کو مساوی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔












