لاہور( کورٹ رپورٹر پنجاب پوسٹ)آج خصوصی عدالت میں خاتون محقق کو ہراساں کرنے کے معاملے پر وی سی اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹر سجاد مبین اور پی آر او شرجیل احمد ایک ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی ۔ جس میں وی سی اوکاڑہ یونیورسٹی ڈاکٹر سجاد مبین پیش نہ ہوئے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5مئی کو جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق خصوصی عدالت کے جج انجم رضا سید نے کیس کی سماعت کی ۔ درخواست گزار ڈاکٹر شہلا ہنی کےوکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے دلائل دئیے۔ وکیل نے مئوقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر سجاد مبین نے غیراخلاقی مطالبات پورا نہ کرنے پر ہراساں کیا، وائس چانسلر نےدرخواست گزار کےخلاف بلاجواز انتقامی کاروائیاں کیں ۔وی سی نے ایچ ای سی کی سکالر شپ پر پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے بیرون ملک ہونے کے دوران چھٹی٫ تنخواہ اور ترقی روک لی۔درخواست گزار کے مطابق ہراسانی کی شکایت دبانے کے لیے وائس چانسلر نے کردار کشی کی منظم مہم چلائی اور درخواست گزار کویونیورسٹی آفیشل ویب سائٹ پربلیک میلرلکھاگیا۔
عدالت میں مئوقف اختیار کیا گیا کہ وی سی سجاد مبین خواتین کو حراساں کرنے کے حوالے سے بری شہرت کے حامل اور ریکارڈ یافتہ ہیں۔وائس چانسلر کیخلاف پہلے بھی ایک خاتون نے نوکری کا جھانسہ دے کر ریپ کرنےکے الزامات عائد کئے تھے۔درخواست گزار کے مطابق وی سی قبل ازیں یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں بھی خاتون پروفیسر کو ہراساں کر چکا ہیں ۔ جنکی شکایت پر یو ای ٹی لاہور کی سینڈیکیٹ سجاد مبین سمیت دیگر دو پروفیسرزکو سزا سنا چکی ہے
درخواست گزار کے مطابق یونیورسٹی کےپی آر او شرجیل احمد نےوائس چانسلر کے ایما پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر اور پی آر او کو ایک ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے اور معافی مانگنے کاحکم دیا جائے












