لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ضلع کچہری میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی مبینہ فیک ویڈیو کیس میں بطور گواہ بیان ریکارڈ کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم کی عدالت میں کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں بتایا کہ 24 اور 25 جولائی 2024 کی درمیانی رات وہ اپنے گھر کے کمرے میں سوشل میڈیا دیکھ رہی تھیں، اس دوران فیس بک اور ٹک ٹاک پر کچھ ویڈیوز ان کی نظر سے گزریں، جن کی کیپشن میں ان کی ویڈیو لیک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
صوبائی وزیر کے مطابق انہوں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ کھولا تو وہاں موجودہ ملزمہ فلک جاوید کا ٹویٹ بھی دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلک جاوید کے اکاؤنٹ سے مواد سامنے آنے کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:مثالی گاؤں پراجیکٹ میرے دل کے بہت قریب، ہر گاؤں کی حالت بدلنا چاہتی ہوں، مریم نواز
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ اگلے روز وہ لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کی عدالت پہنچیں، جہاں انہیں عدالت کے باہر تقریباً چار گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "میں ملزمہ نہیں، مدعی ہوں، آپ نے حکم کیا تو میں آگئی ہوں، میں کس کس کو بتاؤں کہ یہ میری ویڈیو نہیں ہے۔”
صوبائی وزیر نے عدالت سے کیس کا ٹرائل جلد مکمل کرکے فیصلہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی ہے اور انہوں نے اس کی شادی کرنی ہے، وہ اس صورتحال کا کیسے سامنا کریں گی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب کی دیگر خواتین کو بھی سوشل میڈیا پر کس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ کیس کا ٹرائل جلد مکمل کیا جائے۔۔











