محکمہ اوقاف نے اچانک کرایہ بڑھا دیا، درخواست، ٹیکسوں پر ٹیکس عوام کہاں سے ادا کرے؟ عدالت کا فیصلہ

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے نئی انارکلی میں محکمہ اوقاف کی جانب سے دکان سیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دکان ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو کرائے کے واجبات کا 10 فیصد جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

جسٹس جواد حسن نے رخسانہ پروین کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے محمد فیضان سلیم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ نے محکمہ مسلم اوقاف سے انارکلی میں دکان کرائے پر لے رکھی ہے، تاہم محکمہ اوقاف نے تین سال بعد معمول کے مطابق کرایہ بڑھانے کے بجائے دکان کے رقبے کے حساب سے فی مربع فٹ 250 روپے اضافہ کردیا، جس کے باعث کرائے کے واجبات 45 لاکھ روپے تک پہنچ گئے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار قانون کے مطابق تین سال بعد کرائے میں اضافے کی ادائیگی کے لیے تیار ہے، تاہم محکمہ اوقاف کو دکان سیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت سے دکان ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔

عدالت نے ڈی جی اوقاف کو ہدایت کی کہ دکان کے رینٹ، رقبے، معیادِ کرایہ داری اور دیگر شرائط کا جائزہ لے کر معاملے کا فیصلہ کیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کو واجبات کا 10 فیصد جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جتنے ٹیکس لگائے گئے ہیں، انسان کہاں سے کمائے اور ادا کرے؟ بجلی اور گیس کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے، ٹیکسوں پر ٹیکس عوام کہاں سے ادا کرے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر دکاندار کا کاروبار ہی بند کردیا جائے تو وہ کرایہ کہاں سے ادا کرے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے