پنجاب کے صحافیوں کی جیت، لیسکو لاہور ہائیکورٹ سے بھی ناکام، لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس فراہم کرنے کا حکم

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے لیسکو چیف محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے لیسکو کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ سرکاری ادارے کسی معاملے پر حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی کو مستقل طور پر خفیہ نہیں رکھ سکتے۔ اجلاس کے منٹس کو حتمی فیصلے تک قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، تاہم فیصلہ ہونے کے بعد اس بنیاد پر معلومات کو استثنیٰ حاصل نہیں رہتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کے قانون کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینا ہے۔

عدالت کے مطابق صرف اس بنیاد پر کہ ریکارڈ کسی افسر کی ترقی سے متعلق ہے، پورا ریکارڈ خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔ اگر ریکارڈ میں کوئی ایسی معلومات موجود ہوں جو قانونی طور پر محفوظ ہیں تو صرف متعلقہ حصے کو الگ کیا جا سکتا ہے، مکمل ریکارڈ شہری کو فراہم کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ معلومات طلب کرنے والے شہری سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ وہ معلومات کس مقصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ معلومات روکنے کے جواز کو ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی عوامی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے انفارمیشن کمیشن کا لیسکو کو 10 روز کے اندر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ انفارمیشن کمیشن کو عوامی ادارے کو معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے