لاہور ہائیکورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیساتھ ہی فوری انصاف، 10 سال بعد قتل کے ملزم کو رہا کرنے کا حکم

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم محمد فاضل کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مقدمے کے ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کو ضمانت منظور کرنے کی اہم وجہ قرار دیا۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ملزم محمد فاضل کی درخواست ضمانت منظور کرنے کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے کے مطابق ملزم جنوری 2024 سے جیل میں ہے، جبکہ ڈھائی سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مقدمے میں ایک بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل میں ہونے والی تاخیر کی ذمہ داری ملزم پر عائد نہیں ہوتی، اس لیے قانون کی دفعہ 497 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مقدمے میں غیر معمولی تاخیر کی صورت میں ملزم کی سابقہ روپوشی ضمانت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

فیصلے کے مطابق محمد فاضل کے خلاف 2015ء میں قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کا پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے