ہائے ماما! ننھے بچوں کو یو ٹیوب اور فیس بک دکھانا ہوگا منع؟ پنجاب اسمبلی سے منظور 16 برس سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے محدود استعمال کی قرارداد کیا ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب، ایم پی اے سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کم عمر بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے مؤثر قانون سازی کی سفارش کی گئی ہے۔

قرارداد کے متن کے مطابق بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن جنسی استحصال اور نامناسب مواد سے تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام وضع کیا جائے۔

قرارداد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے معیارات پر عملدرآمد کا پابند بنانے اور بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ بچپن اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل فراہم کیا جائے گا، بچوں کا تحفظ اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس مقصد کے لیے مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے مؤثر ریگولیٹری اور نگرانی کا نظام وضع کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

سارہ احمد کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک، جن میں آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکہ کی مختلف ریاستیں شامل ہیں، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین اور عمر کی پابندیاں متعارف کرا چکے ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے