کیا جیل میں بند اقلیتی قیدی اپنی مذہبی تعلیم حاصل کرکے قید میں رعایت حاصل کرسکتے ہیں؟ پنجاب اسمبلی میں قرارداد کیوں منظور کی گئی؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب اسمبلی نے اقلیتی قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم اور امتحانات کے انتظام اور کامیاب قیدیوں کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر قانون کے مطابق سزا میں رعایت دینے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ قرارداد حکومتی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم نے پیش کی۔

قرارداد کے متن کے مطابق پنجاب پریزن رولز 1978 کے رول 215 کے تحت مذہبی تعلیم کی بنیاد پر قیدیوں کو سزاؤں میں رعایت، یعنی قید کی مدت میں قانون کے مطابق کمی دی جاتی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران 2558 مسلم قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

قرارداد میں اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی اس نظام پر مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد کے مطابق مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی اپنے مذہبی نصاب کی تعلیم حاصل کرنے، امتحانات میں شرکت اور کامیابی کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزاؤں میں رعایت حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی قیدیوں کو بھی مذہبی تعلیم کے ذریعے سزا میں رعایت کی سہولت تک مساوی رسائی ملنی چاہیے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے