لاہور(میاں انیب ) سابق وفاقی وزیر خزانہ اور سابق جنرل سیکرٹری تحریک انصاف اسدعمر نے کہا ہے کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی رہنما بانی پی ٹی آئی کو بہتر مشورہ دے سکتا ہے تو وہ اسے ہی اڈیالہ میں ملاقات کی اجازت دے ۔ مجھے تاحال بانی سے ملاقات کی کوئی آفر نہیں ہوئی ہے ، حکومت کا شکوہ ہے کہ بانی سے ملاقاتیں اس لئے بند ہیں کہ ملنے والے رہنما اڈیالہ میں غلط بریفنگ دیتے ہیں ۔ بانی سے کون ملاقات کرے گا ؟ کون ملاقات نہیں کرے گا ، یہ فیصلہ تو حکومت کرتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب پوسٹ کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ۔
اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ میں نے تحریک انصاف کیوں چھوڑی ، عمران خان رہا ہو کر باہر آئیں گے تو دروازہ بند کرکے سب کچھ انہیں بتاوں گا۔پنجاب او رکے پی کے موازنے پر سوال کے جواب میں سینئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ہے ، پنجاب میں مکمل امن ہے،پنجاب کی 60 فیصد آبادی زراعت سے تعلق رکھتی ہے ، صوبے کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے ،اس وقت پنجاب کا کسان بدترین تکلیف سے گزر رہا ہے ۔نہ تو اسکی فصل اچھی ہورہی ہے اور نہ ہی اسے اچھی قیمت مل رہی ہے۔ پنجاب کے شہریوں کی زندگی آج سے چار سال پہلے کی نسبت بہتر ہر گز نہیں ہے ۔سابق وزیر خزانہ نے ضم شدہ اضلاع کا بجٹ خیبر پختونخوا حکومت کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا اگر آپ نے انکی شکایات دور نہ کیں ، انہیں روزگار اور تعلیم کے مواقع نہ دئیے تو اگر نوجوانوں نے کوئی اقدامات اٹھائے تو اسکا خمیازہ پورا پاکستان اٹھائے گا

قبل ازیں سابق وفاقی وزیر نے پنجاب پوسٹ کے آفس کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سی ای او پنجاب امجد بخاری۔تحریک انصاف کے رہنما سردار علی جعفر ، سیکرٹری ڈی ایم اے انیب ظہیر بھی موجود تھے۔ ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کے وفد میں اردو نیوز سے ادیب یوسفزئی ، پاکستان میٹرز کے ایڈیٹر اظہر تھراج، ڈیلی سوشل پاکستان سے عمران علی خان ، اردو پوائنٹ سے اسامہ چوہدری ،روزنامہ نئی عدالت سے حافظ خرم ، براڈیفائی ڈیجیٹل سے حسینین زمان ، پنجاب پوسٹ سے فہد یوسفزئی اور یوتھ ڈیجیٹل سے حافظ عتیق شامل تھے ۔ سابق سیکرٹری جنرل تحریک انصاف نے وفد کیساتھ گفتگو میں قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا












