لاہور(فہد یوسفزئی) گذشتہ شب پنجاب پوسٹ کو صوبائی دارلحکومت میں چلنے والی سپیڈو بس سروس کے حوالے سے ایک ویڈیو موصول ہوئی ، جس میں بس کنڈیکٹر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ بعد ازاں مزید تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ واقعہ ایل ڈی اے سٹاپ پر رائیونڈ جانے والی شاہراہ پر بس نمبر ایل ایچ آر ، ای وی 008 میں پیش آیا۔ پنجاب پوسٹ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر اس ویڈیو کو پوسٹ کیا۔
جس کے بعد رات گئے تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج ہوا ۔پولیس نے بس کنڈیکٹر سجاد علی کو گرفتار کرلیا۔
بعدازاں وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے ملزم سجاد علی کو نوکری سے برخاست کردیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ملازم کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ اسے بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسافر کے ساتھ بدتمیزی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو تکلیف پہنچانے والوں کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں مشکلات سے دوچار کرنا۔حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسی دوران حکومت پنجاب نے متاثرہ خاتون کو بلا کر اسے دوبارہ سے بس کی سواری کروائی ۔
سوشل میڈیا صارفین نے حکومت پنجاب کے اس اقدام اور فوری ایکشن کو سراہا ، وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب پولیس اور دیگر حکام کی کاوشوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔















