شرقپور(پنجاب پوسٹ)سپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی پر بیماری کے باعث جاں بحق ہونے والی پاکستانی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کا جسد خاکی بالآخر تلاش کر لیا گیا۔ 21 اگست کو کیمپ تھری کے قریب انتقال کرنے والی ڈاکٹر اسماء کی میت تقریباً دو ہفتے تک سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دبی رہی جسے شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں چھ رضاکار ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز نے سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود ڈھونڈ نکالا۔ میت کو کیمپ ٹو منتقل کر لیا گیا ہے جہاں سے بیس کیمپ اور بعد ازاں سکردو روانگی کی تیاریاں جاری ہیں۔

ڈاکٹر اسماء مشتاق پانچ رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کا حصہ تھیں جس نے قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 7027 میٹر بلند سپانٹک چوٹی سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ چوٹی سر کرنے میں کامیابی کے بعد واپسی کے سفر کے دوران تقریباً 6400 میٹر کی بلندی پر انہیں اچانک شدید طبی پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ بلند مقام کی مخصوص بیماری بتائی گئی۔ ساتھی کوہ پیماؤں اور ماؤنٹین گائیڈز نے فوری طبی امداد دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ 21 اگست کو کیمپ تھری کے قریب جانبر نہ ہو سکیں۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق کون تھیں؟
34 سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرپور شریف سے تھا اور وہ برطانیہ میں مقیم تھیں جہاں وہ گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ طب کے پیشے کے ساتھ ساتھ انہیں سفر، ٹریول ولاگنگ اور کوہ پیمائی سے خاص لگاؤ تھا اور وہ اس سے پہلے بھی کئی پہاڑی مہمات میں حصہ لے چکی تھیں۔ 2024 میں کے ٹو مہم کے لیے سپانسرشپ کی تلاش کے دوران انہوں نے خود کو "ڈاکٹر اور کوہ پیما” کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ ان کی زندگی طب، سفر اور بلندیوں کے شوق کا ایک خوبصورت امتزاج تھی۔
دو ہفتے کی جدوجہد
ان کی موت کے بعد باقی مہم کے ساتھی نیچے اتر آئے جبکہ ان کا جسد خاکی تقریباً سات ہزار فٹ کی بلندی پر برف میں دب کر رہ گیا۔ ابتدائی طور پر میت کو ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی جو موسم کی شدت اور دشوار گزار راستوں کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ گلگت بلتستان کے اس علاقے میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم کے بدلتے مزاج نے قراقرم کی چوٹیوں پر حالات مزید مشکل بنا دیے تھے جس کے باعث کوہ پیماؤں اور ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ اس دوران میت کی تلاش کے لیے ڈاکٹر اسماء کے اہل خانہ سے تیس لاکھ روپے تک کا معاوضہ طلب کیا جا رہا تھا۔

6 نوجوانوں کا بے لوث کارنامہ
بالآخر شگر کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیما محبوب علی ارندو کی قیادت میں مقامی ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز کی ایک رضاکار ٹیم سپانٹک روانہ ہوئی۔ اس ٹیم نے سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود کیمپ تھری سے آگے سرچ آپریشن جاری رکھا اور آخرکار ڈاکٹر اسماء کا جسد خاکی تلاش کر لیا۔ اس ٹیم میں نواب عباس، حسین بیگ (مونٹنر)، حسین علی، مظاہر حسین اور عابدین نمبردار شامل تھے۔
ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق میت کے ہمراہ ٹیم کیمپ ٹو تک پہنچ گئی جہاں سے برفباری میں رکاوٹ نہ آنے کی صورت میں بیس کیمپ اور پھر پاکستان آرمی کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سکردو منتقلی کی تیاریاں کی گئیں۔
سب سے قابل ذکر بات یہ رہی کہ جب ڈاکٹر اسماء کے خاندان نے اس مشکل اور جان جوکھوں کے کام کے عوض معاوضہ پیش کیا تو ان چھ رضاکاروں نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یہ کام محض اللہ کی رضا کے لیے انجام دے رہے ہیں۔ جو کام تیس لاکھ روپے میں کرایا جا رہا تھا وہ انہوں نے ایک پیسہ لیے بغیر مکمل کر دکھایا۔
محبوب علی اروند
محبوب علی ارندو ایک سماجی کارکن بھی ہیں جو اپنے گاؤں اور علاقے کی بہتری خصوصاً تعلیم کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ سپانٹک روانگی سے قبل بھی وہ اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک تعلیمی منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ محبوب علی اور ان کے پانچ ساتھیوں نے برف پوش پہاڑوں، شدید سردی اور جان لیوا بلندیوں پر ایک اجنبی کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی عظمت کا تعلق عہدے، مالی حیثیت یا سماجی رتبے سے نہیں بلکہ اس درد سے ہے جو وہ دوسروں کی تکلیف پر محسوس کرتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے محبوب علی اور ان کی ٹیم کو سراہا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ شگر کی سرزمین واقعی خوش نصیب ہے کہ اس نے محبوب علی جیسے نوجوان پیدا کیے جنہوں نے پوری دنیا کو انسانیت کا ایک نیا سبق پڑھایا۔














