لاہور(پنجاب پوسٹ)قومی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں حالیہ تبدیلیوں اور کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کے طریقہ کار پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکواڈ سے باہر کیے جانے والے کھلاڑی بھی پاکستان کے قومی کرکٹرز ہیں، جنہوں نے ملک کی نمائندگی اور خدمت کی ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ عزت اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنے پر زور دیا۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’’پہلی فلائٹ سے واپس بھیج دیا گیا‘‘ جیسے الفاظ کھلاڑیوں کی بے عزتی کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق احتساب کا عمل ان افراد سے شروع ہونا چاہیے جنہوں نے سسٹم کو خراب کیا، نہ کہ ان کھلاڑیوں سے جو ابھی ٹیم کا حصہ بننے کے عمل میں ہیں یا جنہوں نے صرف چند ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ خاص طور پر بینچ پر بیٹھنے والے یا صرف دو، تین ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ کھلاڑیوں کا احتساب دورہ مکمل ہونے کے بعد کیا جانا چاہیے، دورے کے دوران مسلسل تبدیلیاں اور دباؤ کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
شعیب ملک نے کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر خراب میچ کے بعد کرکٹرز کو ذہنی دباؤ سے نہیں گزرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ہر ناکام کارکردگی کے بعد ہونے والی شدید تنقید بھی کھلاڑیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھلاڑی مسلسل ذہنی دباؤ اور تنقید کا شکار رہیں گے تو ان کے ذہنوں میں ناکامی کا خوف بیٹھ سکتا ہے، جو ان کی کارکردگی اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ شعیب ملک نے زور دیا کہ قومی کرکٹرز کو بہتر ماحول، اعتماد اور مستقل مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ دباؤ سے آزاد ہو کر ملک کی نمائندگی کر سکیں۔















