لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے خلع کے عوض خاتون کو 11 تولہ سونا یا اس کی قیمت بطور بدلِ خلع شوہر کو واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر 11 تولہ سونا واپس لینے کا حقدار نہیں، کیونکہ سونے کی خریداری کے لیے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی۔
جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر رخسانہ کی جانب سے خلع لینے کے معاملے میں ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف تحریری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے 11 تولہ سونے سے متعلق دستیاب شواہد کا مجموعی طور پر جائزہ نہیں لیا۔ شوہر بھی یہ ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد پیش نہ کر سکا کہ مذکورہ سونا اس نے اپنےتھا۔
یہ بھی پڑھیں:بس کی ٹکر سے 4 نوجوان جاں بحق، ڈرائیور کی درخواستِ ضمانت خارج
عدالت نے قرار دیا کہ مکان خاتون کی ملکیت تھا اور اسے اپنے والد کو بطور تحفہ دینا بھی قانونی طور پر درست اقدام تھا۔ شوہر کی جانب سے مکان کی ملکیت اور اسے بطور تحفہ والد کو دینے کو چیلنج کرنے کا مؤقف بھی مسترد کر دیا گیا۔ عدالت نے خاتون کے والد کو مکان کا قبضہ دینے سے متعلق سول عدالت کی ڈگری برقرار رکھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کی رِٹ پٹیشن جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے نابالغ بچے کے نان نفقہ کو والد کی قانونی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری قرار دیا۔ عدالت نے شوہر کی جانب سے اپنی مالی حیثیت کے حوالے سے اختیار کیے گئے متضاد مؤقف کو بھی مدنظر رکھا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر عائشہ جٹ کیس:رجب بٹ سمیت ملزمان پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکا
عدالت نے نان نفقہ میں سالانہ اضافے کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ تاہم 63 ہزار روپے زچگی کے اخراجات کی واپسی کا دعویٰ ثابت نہ ہونے پر اسے تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ 22 تولہ سونے کے زیورات شوہر کے پاس موجود ہونے کا دعویٰ بھی ثابت نہ ہو سکا۔











