بجلی کی فاضل پیداواری صلاحیت استعمال نہ ہونے سے قیمت بڑھ رہی ہے، خرم مختار

فیصل آباد( پنجاب پوسٹ)پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن چیف خرم مختار نے پاور سیکٹر میں فوری اور ٹھوس اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انڈسٹری پاور مینجمنٹ پر سرمایہ اور وقت لگانے کی بجائے پیداوار میں اضافے پر توجہ مرکوز کر سکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بجلی کی فاضل پیداواری صلاحیت کے باوجود اس کا مکمل استعمال نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں کراس سبسڈیز اور بجلی چوری کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے اس کا اضافی مالی بوجھ بھی صارفین پر منتقل کر دیتی ہیں یہ سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فیصلہ کن، مربوط اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی معیشت 2008 سے پاور سیکٹر کی خرابیوں کا شکار ہے اور اس سلسلے میں کوئی متبادل منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ رکھنے والے نجی شعبے کے ماہرین کو پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں شامل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے پانچ سال کے لئے بجلی کی پیداوار اور فراہمی بہتر بنانے کے لئے اہداف مقرر کرکے ماہانہ بنیادوں پر کارکردگی سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ نظام میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل اور بجلی کی ترسیل کا نظام ٹھیک نہ ہونا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ اب اس کی لاگت تین سے چار گنا زیادہ ہو چکی ہے اور کوئی اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریکوری، نقصانات اور گورننس کے مسائل حل کرنے میں مسلسل ناکامی کی ذمہ دار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں حیسکو، سیپکو، پیسکو اور کیسکو کو جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ خرم مختار نے کہا ہے کہ انڈسٹری کے لئے ہر چھ ماہ بعد ایک نیا پیکج آ جاتا ہے اور جب وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر ایک اور نیا پیکج دیدیا جاتا ہے اور اس دوران بھی مختلف پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے مثبت نتائج حاصل ہونے کی بجائے انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے