لاہور(پنجاب پوسٹ)جولائی 2026 کے معاشی اعداد و شمار نے پاکستانی معیشت میں استحکام، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے مثبت رجحان کو نمایاں کیا ہے۔ ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور ٹیکس وصولیوں سمیت اہم معاشی اشاریوں میں حوصلہ افزا پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔
جولائی 2026 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 3.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو بیرونی شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ملکی زرمبادلہ کی پوزیشن کو سہارا ملنے کے ساتھ ساتھ بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.08 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے، جو ملک کی بیرونی مالی پوزیشن میں بہتری اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ زرمبادلہ ذخائر میں استحکام سے ملکی معیشت کے حوالے سے مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بینک آف پنجاب کے اخراجات میں 34 فیصد اضافہ، 268 بڑے ڈیفالٹرز کا انکشاف
جولائی 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہو کر 328 ملین ڈالر رہ گیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو بیرونی شعبے میں توازن بہتر ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ درآمدات، برآمدات اور بیرونی آمدنی کے درمیان توازن بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
جولائی کے دوران روپے کی قدر میں بھی نسبتاً استحکام دیکھا گیا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی معمولی بہتری برقرار رہی۔ روپے کے استحکام سے درآمدی دباؤ کم کرنے اور کاروباری و مالیاتی ماحول میں غیر یقینی صورتحال گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔
مالیاتی شعبے میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی۔ جولائی 2026 میں ایف بی آر نے 810 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں، جو ماہانہ ہدف سے زائد ہیں۔ ٹیکس وصولیوں میں بہتری مالی نظم و ضبط، ریونیو میں اضافے اور حکومت کی مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق جولائی 2026 کے معاشی اعداد و شمار مجموعی طور پر مالی نظم و ضبط، معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے جیسے عوامل پاکستان کی بیرونی اور مالی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی پوزیشن کے ذریعے پائیدار معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، جبکہ آنے والے عرصے میں ان مثبت رجحانات کو برقرار رکھنا معاشی بحالی کے لیے اہم ہوگا۔














