لاہور (پنجاب پوسٹ) بینک آف پنجاب کی آمدن، اخراجات، منافع، اعلیٰ حکام کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئیں، جس میں بینک کے 268 بڑے قرض داروں کے ڈیفالٹر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق بینک آف پنجاب کے آپریٹنگ اخراجات ایک سال کے دوران 34 فیصد سے زائد بڑھ گئے۔ 2023 میں آپریٹنگ اخراجات 37 ارب 12 کروڑ روپے تھے جو 2024 میں بڑھ کر 49 ارب 90 کروڑ روپے ہوگئے، یوں اخراجات میں تقریباً 12 ارب 78 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ دستاویزات کے مطابق بینک کے مجموعی اخراجات 2024 میں 50 ارب 39 کروڑ 80 لاکھ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ 2023 میں یہ 37 ارب 49 کروڑ 90 لاکھ روپے تھے۔
بینک آف پنجاب کے صدر اور سی ای او کی ماہانہ تنخواہ 66 لاکھ 19 ہزار روپے ہے، جبکہ ٹیکس اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں سالانہ تنخواہ کی مد میں صدر و سی ای او کو 7 کروڑ 94 لاکھ 28 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق آپریٹنگ اخراجات کو گاڑی، ڈرائیور، طبی انشورنس اور دیگر مراعات بھی حاصل ہیں۔ 2024 میں صدر و سی ای او کو مجموعی طور پر 23 کروڑ 22 لاکھ 61 ہزار روپے ادا کیے گئے، جبکہ مینجریئل ریمیونریشن کی مد میں 14 کروڑ 6 لاکھ 40 ہزار روپے ادا ہوئے۔
بینک کے 7 نان ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو فیس اور الاؤنسز کی مد میں 6 کروڑ 49 لاکھ 8 ہزار روپے ادا کیے گئے۔ بعض اعلیٰ افسران کو بینک کی گاڑی بمعہ ڈرائیور اور کارپوریٹ کلب کی ممبرشپ سمیت دیگر سہولیات بھی حاصل ہیں۔دستاویزات کے مطابق بینک آف پنجاب کی مجموعی آمدن 2024 میں 70 ارب 84 کروڑ 60 لاکھ روپے رہی، جو 2023 میں 58 ارب 66 کروڑ 40 لاکھ روپے تھی۔
بینک کا قبل از ٹیکس منافع 2024 میں 24 ارب 56 کروڑ 50 لاکھ روپے رہا، جبکہ 2023 میں یہ 21 ارب 21 کروڑ 80 لاکھ روپے تھا فیس اور کمیشن سے بینک کی آمدن بھی 7 ارب 42 کروڑ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 11 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے ہوگئی۔
دستاویزات کے مطابق بینک آف پنجاب کے 57 فیصد سے زائد شیئرز پنجاب حکومت کی ملکیت ہیں، جبکہ مجموعی شیئر ہولڈنگ کمیونٹی 20 ہزار 521 شیئر ہولڈرز پر مشتمل ہے۔














