لاہور (پنجاب پوسٹ) چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھا، ملک کی ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کو مضبوط بنایا، اگر پاکستان کے پاس ایٹمی دفاعی صلاحیت نہ ہوتی تو ہمارا حال بھی شام، عراق یا لیبیا جیسا ہو سکتا تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ ہم پاکستان کی اچھائیوں کو نظر انداز کرکے اس کی برائیوں کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں، حالانکہ قیام پاکستان کے وقت وسائل کی شدید کمی تھی اور ہمارے بزرگوں نے انتہائی مشکل حالات میں ملک کو سنبھالا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن چاہتے تھے کہ ملک قائم نہ رہ سکے، تاہم ہمارے بزرگوں نے دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے اور پاکستان مسلسل جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھتا رہا۔ پاکستان میں فائبر آپٹک ٹیکنالوجی آئی اور آج ہم موبائل فون اور جدید رابطوں کی سہولت استعمال کر رہے ہیں۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پانچویں نسل کی جنگ مسلط کی گئی، جس کے ذریعے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان میں راشد لطیف خان یونیورسٹی جیسے بے شمار ادارے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں جبکہ بلاسود قرضوں کے ذریعے بھی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے لاکھوں طلبہ و طالبات کو وظائف دیے گئے، وسائل سے محروم خاندانوں کے باصلاحیت بچے وظائف حاصل کرکے ڈاکٹر اور انجینیئر بن رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے رنگ ساز کا بیٹا اسکالرشپ حاصل کرکے سرجن بنا اور آج امریکہ میں موجود ہے، جبکہ یزمان کی ایک بچی، جس کی والدہ گھروں میں کام کرتی تھیں، اسکالرشپ کے ذریعے لمز تک پہنچی۔
ان کا کہنا تھا کہ شمون مسیح کے والد دفاتر میں صفائی کا کام کرتے تھے، ان کا بیٹا انجینیئر بن کر اسی دفتر میں افسر بنا۔ پاکستان کا مستقبل صرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے نہیں، ہر باصلاحیت نوجوان کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمند بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کی قابلیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے، پاکستانی نرسز کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نرسز کی سالانہ پیداوار چند ہزار سے بڑھا کر 38 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم نے نرسز کی تعداد اگلے سال تک 60 ہزار سے ایک لاکھ تک لے جانے کا ہدف دیا ہے۔ نرسنگ کے شعبے میں معیار کے ساتھ افرادی قوت بڑھانے پر کام جاری ہے اور پاکستان میں ہیلتھ ٹورزم کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ چین کی 50 یونیورسٹیز اور 70 سے زائد تکنیکی تعلیم کے اداروں کے ساتھ تعلیمی تعاون کے معاہدے کیے گئے ہیں، جبکہ امریکہ کی 25 یونیورسٹیز اور ہیلتھ سیکٹر و تکنیکی تعلیم کے 17 اداروں کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارکس میں پرینک، جوڑوں اور خواتین کو ہراساں کرنے والے جعلی پولیس اہلکار کیسے پکڑے گئے؟
ان کے مطابق بین الاقوامی جامعات کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید تحقیق پاکستان منتقل کی جائے گی اور بین الاقوامی جامعات کے تعاون سے پاکستان میں ریسرچ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ اگلے دو ماہ میں بین الاقوامی جامعات کے نمائندگان پاکستان آئیں گے جبکہ پاکستانی جامعات، ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تحقیقی تعاون کے لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد دنیا کے دروازے پاکستان کے لیے کھلے ہیں، اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کو اب مستقبل کی منصوبہ بندی اور طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے، 2047 میں پاکستان کے قیام کو 100 سال مکمل ہوں گے، اس لیے مستقبل کی تیاری ابھی سے کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے اور نیشنل یوتھ پالیسی کی کابینہ سے منظوری ہو چکی ہے۔ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی بھی لانچ ہو چکی ہے۔
رانا مشہود احمد خان کے مطابق نوجوانوں کی ملازمت میں ہر سال 35 فیصد خواتین کی شمولیت یقینی بنانے پر کام ہو رہا ہے، جبکہ ہر سال نئی کمپنیوں میں 10 فیصد نوجوانوں کی رجسٹریشن یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی ای اسپورٹس پالیسی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس میں گیم ڈویلپمنٹ، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے شامل ہیں۔ گیم ڈویلپمنٹ اور متعلقہ شعبے اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم وژن 2047 کے تحت نوجوانوں کو قومی ترقی کے مرکز میں لانا چاہتے ہیں۔ پالیسی سازی میں پہلی مرتبہ نوجوانوں سے براہ راست تجاویز اور آئیڈیاز لیے جائیں گے اور نوجوانوں سمیت پاکستان بھر کے متعلقہ اداروں سے آئندہ چھ ماہ کے لیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت کی ترجیح صرف پالیسی بنانا اور عوام تک پہنچانا نہیں بلکہ اس کی عملی صورت یقینی بنانا ہے۔














