پارکس میں پرینک، جوڑوں اور خواتین کو ہراساں کرنے والے جعلی پولیس اہلکار کیسے پکڑے گئے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) پبلک پارکس میں پولیس یونیفارم پہن کر شہریوں اور فیملیز کو ہراساں کرنے اور پرینک ویڈیوز بنانے والے دو ملزمان کو ڈولفن فرینڈلی پٹرولنگ یونٹ نے گرفتار کرلیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر پبلک پارکس میں خواتین، بچوں اور فیملیز کی حفاظت کے لیے ڈولفن فرینڈلی پٹرولنگ یونٹ تعینات ہے۔ ترجمان ڈولفن کے مطابق ایف پی یو ٹیم کو ایک شہری نے پولیس یونیفارم میں لوگوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے اطلاع دی، جس پر ٹیم نے فوری کارروائی کی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان پنجاب پولیس کی یونیفارم پہن کر پارکس میں آنے والی فیملیز کو ہراساں کرتے اور ہائڈ کیم کے ذریعے ویڈیوز بناتے تھے۔ ملزمان شہریوں اور فیملیز کے ساتھ پرینک کرنے میں بھی ملوث تھے۔

ایف پی یو ٹیم نے اطلاع ملنے پر فوری ریسپانس کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت احسن اور اقبال کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ اقبال ٹاؤن کے حوالے کردیا گیا۔

ایس پی بلال احمد کا کہنا ہے کہ پبلک پارکس میں خواتین، بچوں اور فیملیز کے تحفظ کے لیے ایف پی یو ٹیمز مستعد ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پولیس یونیفارم کا غیر قانونی استعمال اور اس کی تضحیک قانوناً جرم ہے، ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے