پنجاب میں کینسر اب لاعلاج نہیں رہا، صوبے میں کس سٹیج کے کینسر کے علاج پر کتنا خرچہ آتا ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ) حکومت پنجاب نے کینسر کے مریضوں کو جدید اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات شروع کر دیے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر مزید 5 کریوابلیشن مشینیں خرید کر صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں تنصیب کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ کریوابلیشن مشین 2025 میں میو ہسپتال لاہور میں متعارف کرائی گئی تھی، جہاں سٹیج ون کے کینسر میں مبتلا 70 سے زائد مریضوں کا اب تک کامیابی سے مفت علاج کیا جا چکا ہے۔

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے مطابق نئی خریدی گئی مشینوں میں سے 2 نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ لاہور، ایک نشتر ہسپتال ملتان، ایک الائیڈ ہسپتال فیصل آباد اور ایک بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں نصب کی جائے گی۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے جدید کینسر کے علاج کی سہولت لاہور سے باہر بھی مزید وسیع ہو جائے گی اور پنجاب بھر کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔

سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود کا کہنا ہے کہ حکومت خصوصی طبی سہولیات کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے، کینسر کے مریضوں کے لیے نئی مشینیں صحت مند پنجاب کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

حکومت پنجاب کے مطابق سرطان کے مریضوں کو اب تک اربوں روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ صوبے بھر میں جدید کینسر کے علاج تک رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے