لاہور (پنجاب پوسٹ) ہسپتالوں اور اداروں میں فائر سیفٹی کے مؤثر نفاذ اور نگرانی کے لیے ایمرجنسی و فائر سیفٹی افسران کی نامزدگی لازم قرار دے دی گئی، تمام وائس چانسلرز، پرنسپلز، ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسران، سربراہانِ ادارہ اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی۔
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے مطابق 27 اگست کو سیکرٹری محکمہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں تمام اداروں کو فائر سیفٹی اقدامات کے مؤثر نفاذ اور مسلسل نگرانی کے لیے افسر نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ہدایات کے مطابق فائر سیفٹی پروٹوکولز پر مسلسل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا جبکہ فائر ایکسٹنگوشرز، ہائیڈرنٹس، اسموک ڈیٹیکٹرز اور دیگر فائر فائٹنگ آلات کی باقاعدگی سے جانچ اور بروقت سروسنگ کی جائے گی۔
اداروں کو بجلی کے بوجھ کا وقتاً فوقتاً تخمینہ لگانے، اوور لوڈنگ یا کسی بھی کمی کی صورت میں فوری طور پر سربراہِ ادارہ کو آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تمام اوقات میں فائر ایگزٹس، ایمرجنسی راستوں اور اسمبلی پوائنٹس تک بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانا ہوگی۔ ریسکیو 1122 کے تعاون سے باقاعدگی سے فائر سیفٹی ڈرلز اور عملے کی تربیت کے سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔
محکمے نے فائر سیفٹی کمپلائنس فائل یا لاگ برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے، جس میں تمام معائنوں، ڈرلز، تربیتی سیشنز اور اصلاحی اقدامات کا ریکارڈ موجود ہوگا۔
فائر سیفٹی کی خلاف ورزی، آلات کی خرابی یا کسی حادثے کی صورت میں سربراہِ ادارہ کو فوری رپورٹ دینا ہوگی، جبکہ فائر سیفٹی کی صورتحال سے متعلق ماہانہ تصدیق شدہ کمپلائنس رپورٹ بھی محکمہ کو جمع کروانا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ایمرجنسی و فائر سیفٹی افسران کو متعلقہ تفصیلات 28 اگست 2026 تک محکمہ کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔











