لاہور(مانیٹڑنگ ڈیسک )ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے طوفان کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کفایت شعاری مہم زور و شور سے جاری ہے۔
پنجاب میں یہ مہم نہ صرف کامیابی سے چل رہی ہے بلکہ مختلف محکموں، وزرا، مشیران اور سرکاری اداروں نے عملی اقدامات کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنا دیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کفایت شعاری کا سب سے بڑا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔
نیوز ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنی تنخواہ اور تمام سرکاری مراعات بشمول پیٹرول ترک کر دی ہیں، ان کی ذاتی گاڑیوں سمیت اسمبلی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے استعمال میں کمی کی گئی ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کے پروٹوکول کے لیے استعمال ہونی والی ایک گاڑی کا پیٹرول بھی اب ان کی اپنی جیب سے بھرا جا رہا ہے۔پنجاب اسمبلی میں اخراجات میں نمایاں کمی کرتے ہوئے 70 فیصد گاڑیاں بند کر دی گی ہیں جبکہ صرف ایک سیکیورٹی اسکواڈ کے ساتھ کام چلایا جا رہا ہے، اسمبلی سیکریٹریٹ میں غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند کر دیے گئے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق اجلاسوں کے دنوں میں ملنے والا اعزازیہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، پہلے سیکیورٹی آفیسر کو 1500 سے 2000 روپے جبکہ دیگر ملازمین کو 5 سے 10 ہزار روپے تک اعزازیہ ایک دن کے حساب سے دیا جاتا تھا، جسے اب بند کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس حکومتی اقدام سے کروڑوں روپے کی بچت ہو گی، رواں برس مارچ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اسمبلی میں 78 ہزار سے زائد بجلی کے یونٹس بچائے گئے جبکہ پروٹوکول گاڑیوں کے پیٹرول اخراجات کی مد میں تقریبا 8 ہزار سے زائد لیٹر پیٹرول کی بچت ہوئی ہے ۔اجلاسوں اور کمیٹیوں کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، غیر ضروری خریداری پر پابندی، سرکاری تقریبات اور ضیافتوں میں 70 فیصد کٹوتی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر میٹنگز آن لائن منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے پنجاب اسمبلی کے اخراجات میں اب تک 4 کروڑ روپے سے زائد کی بچت کی جاچکی ہے۔۔
کفایت شعاری مہم کے تحت صوبائی وزرا، مشیران برائے وزیر اعلیٰ، پارلیمانی سیکریٹریز اور معاونین خصوصی نے 2 ماہ کی تنخواہ وزیر اعظم کے کفایت شعاری فنڈ میں عطیہ کر دی ہے، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہ اور الاؤنسز میں 25 فیصد کمی 2 ماہ کے لیے کر دی گئی ہے، گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام سرکاری افسران کی 2 دن کی بنیادی تنخواہ بھی کاٹی جا رہی ہے۔پیٹرول کے حوالے سے تمام وزرا اور مشیران کی گاڑیوں سمیت تمام سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول میں 50 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے، پنجاب بھر میں تقریباً 60 سے 70 فیصد سرکاری گاڑیاں 2 ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی گئی ہیں اور صرف 30 فیصد گاڑیاں ضروری کاموں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
محکمہ خزانہ پنجاب نے تمام صوبائی محکموں کو کفایت شعاری مہم کے ضمن میں سخت ہدایات جاری کی ہیں جن پر عملدرآمد کے باعث بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی گئی ہے، غیر ضروری لائٹس، ایئر کنڈیشنرز اور برقی آلات بند کیے گئے ہیں، اسمبلی کے اجلاس دن کے اوقات میں بلائے جا رہے ہیں تاکہ جنریٹرز استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 70 فیصد کمی کی گئی ہے، سیکریٹریٹ ملازمین کے لیے صرف 30 فیصد گاڑیاں استعمال کی جارہی ہیں، بیشتر اجلاس آن لائن منعقد کیے جارہے ہیں، غیر ضروری سرکاری دورے اور ضیافتیں بند ہیں، نئی گاڑیوں کی خریداری پر رواں مالی سال کے اختتام تک مکمل پابندی ہے۔
اسی طرح پنجاب بھر میں دکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے جبکہ= شادی ہالز اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایات پر عمل کیا جارہا ہے۔ان اقدامات سے نہ صرف صوبائی خزانے پر بوجھ کم ہوا بلکے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر وسائل مختص کیے گئے ہیں، اسپیکر ملک محمد احمد خان کی قیادت میں پنجاب اسمبلی اس مہم کا سب سے فعال حصہ بن چکی ہے اور دیگر محکمے بھی اس کی پیروی کر رہے ہیں۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری کے حوالے سے اٹھائے گئے یہ تمام اقدامات عارضی ہیں اور علاقائی جنگی صورتحال ختم ہونے کے بعد کاروبار حکومت و معیشت معمول پر آ جائیں گے۔







