راولپنڈی (پنجاب پوسٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی ڈویژن میں مون سون بارشوں اور ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے جامع انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ کی زیر صدارت کمشنر آفس راولپنڈی میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں مون سون بارشوں، اربن فلڈنگ اور خصوصاً نالہ لئی کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ نالہ لئی کی پانی کے بہاؤ کی استعداد بڑھانے، فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم کو جدید بنانے، صفائی، ڈی سلٹنگ اور ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک گیر سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نالہ لئی کی مجموعی لمبائی تقریباً 17 کلومیٹر ہے۔ نیو کٹاریاں کے مقام پر پانی کے بہاؤ کی موجودہ گنجائش تقریباً 20 ہزار کیوسک، گوالمنڈی میں 33 ہزار کیوسک جبکہ چکلالہ کے مقام پر 35 ہزار 600 کیوسک ہے۔ نالہ لئی کی چینل فلو کیپیسٹی بڑھانے کے لیے چکلالہ پل سے تقریباً ایک کلومیٹر ڈاؤن اسٹریم سے کٹاریاں پل تک چینل کی بہتری اور ضروری انجینئرنگ اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ مجوزہ چینل ڈیزائن 25 سالہ ریٹرن پیریڈ کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راولپنڈی کے نشیبی علاقوں، خصوصاً صفدر آباد، پیر ودھائی، ڈھوک کھبہ اور صادق آباد میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس کی تعمیر کے امکانات کا فوری سروے کرایا جائے گا۔ واسا کو آئندہ 15 سے 20 روز میں سیلابی خطرات کے نقشے، فلڈ رسک میپس اور حساس مقامات کی نشاندہی پر مشتمل سروے مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے نالہ لئی کے رائٹ آف وے سے غیرقانونی ڈمپنگ اور تجاوزات کے فوری خاتمے، نالہ لئی اور ملحقہ برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی اور بروقت ڈی سلٹنگ و ڈریجنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارشوں کے دوران پانی کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس میں اسلام آباد کے نالوں پر چیک ڈیمز کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ دونوں شہروں کے باہمی جغرافیائی تعلق اور اپ اسٹریم و ڈاؤن اسٹریم صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ و متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھیں : موسلادھار بارش؛ نالہ لئی میں طغیانی، پانی کی سطح 22 فٹ تک بلند، راولپنڈی میں خطرے کے سائرن بج اٹھے
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر نالہ لئی پر نصب سیف سٹی کیمروں سے مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے گی جبکہ فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ بروقت اطلاعات متعلقہ اداروں اور شہریوں تک پہنچائی جا سکیں۔
اجلاس میں اربن فلڈنگ کے مستقل حل کے لیے مختلف مقامات پر پانی ذخیرہ کرنے والے پونڈز اور دیگر منصوبوں کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فاطمہ جناح پارک میں بارشی پانی محفوظ کرنے کے لیے انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس بنانے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ کو بارشی پانی نالہ لئی میں ڈسچارج کرنے سے قبل ٹریٹمنٹ کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی تجویز دینے پر بھی غور کیا گیا۔
کمشنر راولپنڈی کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران راولپنڈی میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی تاہم مسلسل بارش کے باوجود شہر میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی کہ راولپنڈی ڈویژن کے خطرناک علاقوں سے عوام کا قبل از وقت انخلا یقینی بنایا جائے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 یا ضلعی کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، نیسپاک، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، واسا، راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی











